اگر آپ آٹھ عام خواہشات پر قابو پا لیں تو آپ دوسروں سے 95 فیصد آگے نکل جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کچھ عام خواہشات بہت سے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ ان پر قابو پا کر ہم خود پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خود پر قابو پانا زندگی کی خوشیوں سے خود کو محروم کرنا نہیں، بلکہ ایسی تحریکات پر قابو پانا ہے، جو ہماری شخصیت کی نشوونما اور ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔

مثال کے طور پر ہر صبح آرام دہ بستر کی کشش یا کسی اہم کام کو مؤخر کرنے کی خواہش خاص طور پر ویک اینڈ کے بعد ان میں شامل ہو سکتی ہیں۔

Global English Editing کی ایک رپورٹ کے مطابق کامیاب لوگوں کی سب سے بڑی خصوصیت صرف فطری صلاحیت یا قسمت نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ان عام خواہشات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے حتمی مقصد پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 8 روزمرہ خواہشات پر قابو پانے سے آپ 95 فیصد لوگوں سے زیادہ خود پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں:

صبح سویرے سونا جاری رکھنا

ہفتے کے پہلے دن صبح فون کا الارم بجتا ہے ،گرم اور آرام دہ بستر بہت پرکشش لگتا ہے۔ صرف پانچ منٹ مزید کے بہانے دوبارہ سونے کی خواہش ایک مسلسل جدوجہد ہے، لیکن الارم کی بندش اور بستر چھوڑنا ایک حقیقی خود پر قابو پانے کا امتحان ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دن کی شروعات سب سے مشکل کام سے کریں (جیسے بستر سے اٹھنا)، تو باقی دن زیادہ آسان محسوس ہوگا۔

غیر صحت مند ہلکی غذائیں کھانا

بغیر شعور کے غیر صحت مند سنیکس کھانے کی خواہش پر قابو پانا کافی خود پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مشکل کاموں کو مؤخر کرنا

ٹال مٹول ایک عام مسئلہ ہے، لیکن یہ قیمتی کام مکمل کرنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ ٹال مٹول پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے، مگر اس کے فوائد زندگی بدل سکتے ہیں۔

آرام کو ترجیح دینا

نشوونما اور آرام اکثر ساتھ نہیں چلتے۔ چاہے یہ نئی نوکری لینے کا حوصلہ ہو، نئی ورزش کا نظام اپنانا ہو یا نئی زبان سیکھنا، یہ تبدیلیاں اکثر ہماری کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

منفی جذبات پر فوری ردعمل دینا

غصہ، دکھ اور ناگواری انسانی ردعمل ہیں، لیکن فوری عمل اکثر بہترین نتائج نہیں دیتا۔ یہ ایسے ہے جیسے طوفان میں بغیر تیاری کے کشتی چلانا۔سچی خود پر قابو پانے کی علامت یہ ہے کہ آپ صبر کریں، جذباتی ردعمل پر قابو پائیں، سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ جواب دیں، بجائے اس کے کہ بغیر سوچے جذبات نکال دیں۔

صحت مند عادات کو مؤخر کرنا

صحت مند عادات پر عمل کرنا خاص طور پر موجودہ تیز رفتار اور دباؤ بھری زندگی میں مشکل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر فوری خوشی جو آپ کو ایک ڈونٹ کھانے سے ملتی ہے، مستقبل میں سلاد کھانے کے فوائد سے زیادہ پرکشش لگ سکتی ہے۔اس خواہش پر قابو پانا اور فوری لطف کے بجائے طویل مدتی صحت کے فوائد کو ترجیح دینا حقیقی خود پر قابو پانے کی علامت ہے۔

سوشل میڈیا کو مسلسل چیک کرنا

سوشل میڈیا کو اکیسویں صدی کا ایک دو دھاری ہتھیار کہا جاتا ہے۔ یہ رابطے، معلومات اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لیکن یہ وقت ضائع کرنے والا اور توجہ بٹانے والا بھی ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے اپ ڈیٹس کو مسلسل چیک کرنے یا لامحدود پوسٹس دیکھنے کی خواہش پر قابو پانا ایک عام چیلنج ہے۔ اس وقت کو محدود کرنا نہ صرف توجہ بڑھاتا ہے، بلکہ پیداواریت کو بھی بڑھاتا ہے اور ذہنی سکون کا احساس بھی دلاتا ہے۔

مشکلات کے وقت ہار مان لینا

چاہے کوئی شخص کسی بھی کام میں مصروف ہو یا کسی مقصد کی طرف گامزن ہو، ایک نہ ایک لمحہ ایسا ضرور آئے گا، جب حالات بہت مشکل ہو جائیں گے۔ یہ کام میں کوئی ایسا چیلنج ہو سکتا ہے جو ناممکن لگے یا زندگی میں کوئی بڑی ناکامی یا کوئی ایسا مشکل موقع جو انسان کی برداشت اور صبر کو پرکھے۔

ایسے لمحات میں ہار ماننے کا رجحان بہت مضبوط ہو سکتا ہے اور لگ سکتا ہے کہ درد، تکلیف اور محنت سہنے کے بجائے ہار ماننا زیادہ آسان ہے۔لیکن انہی مشکل لمحات میں حقیقی خود پر قابو پانے کی طاقت سب سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ ہر ذرے کے زور کے باوجود جاری رکھنے کی صلاحیت جب ہر حصہ انسان کے اندر رکنے کا کہہ رہا ہو، یہی سب سے بڑی مثال ہے خود پر قابو پانے اور نظم و ضبط کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size