بچوں میں ذہنی مضبوطی پیدا کرنے والا مؤثر تربیتی انداز
بعض بچے فطری طور پر نرم دل، حساس اور مہربان ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کا خیال رکھنے کی صلاحیت تقریباً جبلّی انداز میں رکھتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی نرمی اور حسنِ سلوک کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
تاہم زیادہ تر بچے مہربانی اور اچھے رویّے زندگی کے مختلف تجربات، اساتذہ، دوستوں اور بالخصوص والدین یا سرپرستوں سے سیکھتے ہیں۔
ویب سائٹ Your Tango کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ خصوصیات بچوں کو جینیاتی طور پر ملتی ہیں، لیکن والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم عمری ہی سے انہیں مہربانی، ہمدردی اور احترام کا درس دیں۔
ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ مہربانی کا انتخاب صرف اچھے اخلاق تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس اندازِ تربیت سے پروان چڑھنے والے بچے عموماً مضبوط تعلقات قائم کرتے ہیں اور ان میں ایک ایسی اندرونی خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے ،جو اس سنہری اصول پر مبنی ہوتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔
1- خود پر ہمدردی اور شفقت کا اظہار
بچوں میں مہربانی کی عادت پیدا کرنے کا آغاز اس مثال سے ہوتا ہے ،جو وہ اپنے والدین سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود اپنے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا رویہ اختیار کریں، تو وہ بچوں کے لیے ایک مثبت نمونہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خود کی دیکھ بھال اور اپنے ساتھ شفقت کا برتاؤ والدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ اگر وہ خود اپنے لیے نرمی اور ہمدردی کا رویہ نہیں اپنائیں گے تو دوسروں کے لیے بھی حقیقی مہربانی کا مظاہرہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
قیادت اور ذاتی ترقی کی کوچ کاویتا میلوانی کے مطابق خود پر شفقت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو ایک ایسے فرد کے طور پر دیکھے جو فطری طور پر کامل نہیں ہے، اپنے آپ سے اسی نرم لہجے میں بات کرے جس طرح وہ کسی قریبی دوست سے کرتا ہے۔
جب کوئی شخص اپنی غلطیوں، اپنی ظاہری شکل یا اپنے رویّوں کو صبر، سمجھ بوجھ اور محبت بھرے جذبے کے ساتھ قبول کرتا ہے ،تو یہی خود پر ہمدردی یا خود شفقت کہلاتی ہے۔
2- نیکی کا بدلہ نیکی سے دینے کی ترغیب
والدین روزمرہ زندگی میں مہربانی کے چھوٹے چھوٹے اعمال کے ذریعے بچوں کو دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سکھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی کو اچانک تحفہ دینا، اس کی تعریف کرنا یا اس کے لیے کوئی اچھا کام کرنا۔
بعد میں ان اعمال پر گفتگو کرنے سے بچوں میں ایسے رویّوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔تحقیقی مطالعات کے مطابق دوسروں کے ساتھ، اپنے آپ کے ساتھ بھی مہربانی کا برتاؤ بچوں کو عملی طور پر یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ حسنِ سلوک زندگی میں کس طرح نظر آتا ہے۔
3- ہمدردی کا مضبوط احساس پیدا کرنا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو دوسروں کے دکھ اور خوشی کو محسوس کرنے اور ان کے جذبات کو سمجھنے کا موقع دینا چاہیے، چاہے وہ خاندان کے افراد ہوں یا خاندان سے باہر کے لوگ ہوں۔
بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ خود کو بہتر ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھانا، ان کی تضحیک کرنا، انہیں شرمندہ کرنا، تعصب یا نفرت کا اظہار کرنا یا کسی بھی جاندار کو نقصان پہنچانا کبھی درست نہیں۔
اسی کے ساتھ یہ تصور بھی بچوں کے ذہن میں راسخ کیا جانا چاہیے کہ ہر انسان قابلِ احترام ہے اور مہربانی کا مستحق ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کریں اور بزرگوں کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کریں۔
4- جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت
ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے جذبات کو مثبت، صحت مند اور تعمیری انداز میں سمجھیں اور ان کا اظہار کریں۔
مایوسی، غصہ اور حسد جیسے جذبات فطری ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا ہر وقت بے قابو اظہار مناسب یا مفید نہیں ہوتا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کو اپنے جذباتی محرکات پہچاننے اور ان پر قابو پانے کی تربیت دینا بہت اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے والدین بچوں کو گہری سانس لینے کی مشقیں کرا سکتے ہیں، دس تک گننے کی عادت ڈال سکتے ہیں یا انہیں کچھ دیر کے لیے ماحول سے الگ ہو کر خود کو پرسکون کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اس طرح بچے دوبارہ سکون اور توازن حاصل کرکے زیادہ مہربانی اور سمجھ داری سے ردعمل دینا سیکھتے ہیں۔
5- مثبت سوچ اپنانا
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کوئی بچہ کسی کا شکریہ ادا کرنا بھول جائے تو اسے ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے کے بجائے مثبت انداز اپنانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ جب بچہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے، اپنے جذبات پر قابو رکھے، دوسروں کا خیال کرے، ہمدردی دکھائے یا سخاوت کا رویہ اپنائے تو اس کی تعریف کریں۔
اس سے ایسے مثبت رویّوں کو فروغ ملتا ہے۔مثبت نفسیات کے اصولوں کے مطابق بچوں کو خوشی، اطمینان اور امید پر مبنی مثبت خیالات اپنانے کی ترغیب دینا ان میں خوشگوار اور متوازن شخصیت کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
6- مستقبل میں کامیاب اور متوازن زندگی کی بنیاد
مہربانی انسان کی زندگی میں نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔ یہ بچوں کو نئی دوستیاں قائم کرنے، دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے، کام کی جگہ پر مؤثر رابطے بنانے، مضبوط رشتے قائم رکھنے اور خاندانی و سماجی روابط کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں جہاں ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت بہت سے رویّوں پر اثرانداز ہوتی ہے، بچوں کی توجہ کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی ماحول میں روایتی اور آن لائن غنڈہ گردی (سائبر بُلنگ) بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔
نتیجتاً بعض بچے دوسروں کے لیے نرم دل اور مددگار بننے کے بجائے سخت مزاج یا انتقامی رویّے اختیار کر لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہربانی دراصل ایک شعوری فیصلہ ہے ،جو کسی دوسرے انسان کی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، سمجھ بوجھ سے بھری ایک نظر ایک چھوٹا سا اچھا عمل یا حوصلہ افزا لفظ بھی کسی کی زندگی میں بڑا مثبت فرق پیدا کر سکتا ہے۔