.

روس ایران کو ایس 300 میزائل سسٹم فروخت کرنے کو تیار

روسی صدر بوشہر میں دوسرا ری ایکٹر تعمیر کرنے کی پیش کش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین ایران کو ایس 300 میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے اور بوشہر کے مقام پر دوسرا جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کی پیش کش کریں گے۔

روسی روزنامے کمر سانت میں بدھ کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق صدر ولادی میر پوتین یہ پیش کش ایرانی صدرحسن روحانی کے ساتھ جمعہ کو ملاقات کے دوران کریں گے۔دونوں لیڈروں کے درمیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوگی۔

واضح رہے کہ روس نے 2007 ء میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے پانچ جدید فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔تب ان کی مالیت 80کروڑ ڈالرز تھی۔یہ میزائل نظام زمین سے طیاروں اور گائیڈڈ میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سنہ 2010ء میں روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے امریکا اور اسرائیل کے دباؤ میں آ کر ایران کے ساتھ اس معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔اس پر ایران نے جنیوا میں ایک عالمی عدالت میں روس کے خلاف چار ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا۔

کمرسانت نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اب روس کی جانب سے ایران کو دوبارہ اس جدید نظام کی فروخت کی پیش کش کا تعلق اس بات سے ہوگا کہ وہ جنیوا میں دائر اس مقدمے سے دستبردار ہو جائے۔ البتہ اب ولادی میر پوتین ایران کو ایس 300 سسٹمز کی جدید شکل ایس 300 وی ایم آنتے 2500 فروخت کرنے کی پیش کش کریں گے۔

اس ذریعے کے مطابق پوتین ایرانی شہر بوشہر میں جوہری پاور پلانٹ میں دوسرا ری ایکٹر تعمیر کرنے کی غرض سے معاہدے پر بھی دستخط کو تیار ہیں۔یہ ڈیل اگرچہ معاشی لحاظ سے منافع بخش نہیں ہوگی لیکن اس کی سیاسی اہمیت زیادہ ہے۔اس لیے روس ایران کے ساتھ عالمی دباؤ سے قطع نظر یہ معاہدہ کرنے کو تیار ہے اور وہ حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے مغربی ممالک پر یہ زور دے رہا ہے کہ وہ ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو نرم کردیں۔ بوشہر میں پہلا ری ایکٹر بھی روس نے تعمیر کیا تھا اور اس نے امریکا اور اس کے آلہ کار اسرائیل کا اس ضمن میں دباؤ مسترد کر دیا تھا۔