.

طرابلس کو جنگجوؤًں سے پاک کرنے کے لیے حکومتی منصوبہ

دارالحکومت میں شہریوں کی جانب سے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت نے سرکاری کنٹرول سے ماورا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپوں کو دارالحکومت طرابلس سے نکال باہر کرنے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت حکام پہلے مرحلے میں اس بات کا تعین کریں گے کہ طرابلس میں کتنی ملیشیائیں کام کررہی ہیں،ان کا حجم کیا ہے اور ان کے پاس کس قسم کے ہتھیار موجود ہیں۔اس عمل کی تکمیل کے بعد ملیشیاؤں کو دارالحکومت سے نکال باہر کیا جائے گا اوران کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرکے سکیورٹی فورسز میں ضم کردیا جائے گا۔

یورپی یونین بھی مسلح ملیشیاؤں کو دارالحکومت سے کم سے کم 35 کلومیٹر دور بھیجنے کے لیے لیبیا کی مدد کررہی ہے۔یہ کارروائی 65 روز تک جاری رہے گی۔

یورپی یونین کے نمائندے کوئرٹ ڈی بیوف نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ان ملیشیاؤں کو طرابلس سے کم سے کم تیس کلومیٹر دور رہنا چاہیے۔اس کا مقصد لیبی دارالحکومت کو اندر سے محفوظ بنانا ہے تاکہ اس کو انتہا پسندوں اور القاعدہ کے جنگجوؤں سے بچایا جاسکے اور ان کے شہر میں داخلے کو روکا جاسکے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ملیشیا گروپ دارالحکومت طرابلس میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو پھر انھیں غیر مسلح ہونا ہوگا لیکن اگر وہ اپنے ہتھیار اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں تو پھر وہ پولیس فورس میں شامل ہوسکتے ہیں''۔

دارالحکومت میں منگل کو مزید بیسیوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے مکینوں نے مقامی حکومت کی اپیل پر مسلح ملیشیاؤں کے خلاف مسلسل تیسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا ہے۔

درایں اثناء لیبیا کی عبوری قومی اسمبلی نے وزیراعظم علی زیدان سے دارالحکومت میں تشدد کے حالیہ واقعات پر بازپرس کی ہے اور مسلح ملیشیاؤں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سے قبل علی زیدان مصراتہ گئے تھے جہاں انھوں نے شہری کونسل اور مسلح ملیشیاؤں کے کمانڈروں سے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

لیبی حکومت نے سوموار کو طرابلس میں بدامنی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر فوج کو تعینات کردیا تھا اور فوجی دستوں نے طیارہ شکن توپوں سے لیس گاڑیوں کے ساتھ مسلح جنگجوؤں کو شہر سے نکال باہر کرنے کی کارروائی شروع کردی تھی۔

شہریوں نے دارالحکومت میں مسلح گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔فوج کی تعیناتی کے بعد مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے طرابلس کے چارعلاقوں کو خالی کردیا ہے اور وہ اپنے شہر کی جانب چلے گئے ہیں۔

طرابلس میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مغربی ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور ان کے متحارب مقامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ان کے درمیان جمعہ کے بعد سے خونریز جھڑپوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار کے خاتمے کے بعد دارالحکومت میں تشدد کا یہ بدترین واقعہ ہے۔شہر میں بدامنی کے پیش نظر تمام جامعات سوموار سے ایک ہفتے کے لیے بند ہیں۔واضح رہے کہ طرابلس اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھرتے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وہ از خود ہی کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔