.

"رابعہ" ٹیلی ویژن کی نشریات اخوان کی دوسری شکست ثابت ہوگی

"اخوانی میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے کوشاں ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون مصر کے سینئر منحرف لیڈر اور موجودہ دستور ساز کمیشن کے نآئب صدر ڈاکٹر کمال البھلباوی نے ترکی سے "رابعہ" کے نام سے ایک نیا ٹیلی ویژن چینل لانچ کرنے پر جماعت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی سے "رابعہ "ٹیلی ویژن چینل کی نشریات اخوان المسلمون کی دوسری شکست ثابت ہوگی کیونکہ جو جماعت اپنے ملک میں ناکامی سے دوچار ہو وہ بیرون میں کون سا تیر چلا سکتی ہے۔ بقول کمال الھلباوی اخوان المسلمون کی حیثیت ایک مردہ جانور کی ہے جس کی روح نکل چکی ہو لیکن اس کے باوجود اسے زندہ قرار دیا جا رہا ہو۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر الھلباوی نے قاہرہ سے نشر ہونے والے "العربیہ" کے پروگرام "مصر اپ ڈیٹ" میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بارے میں نئے ضابطہ اخلاق کے نفاذ اور آج سے چھ ماہ بعد اخوان المسلمون کا ذرائع ابلاغ میں نام ونشان تک نہیں ہوگا۔

پروگرام میں شریک گفتگو سیاسی سماجیات کے استاذ ڈاکٹر عمار علی حسن نے کہا کہ اخوان المسلمون کی جانب سے ترکی سے "رابعہ" ٹیلی ویژن چینل اور قطر سے اخبار کی اشاعت میڈیا میں جماعت کا اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش ہے۔ اخوان المسلمون اپنی کھوئی ساکھ بہتر کرنے اور رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے میڈیا کا سہارا لینا چاہتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعلی حسن کا کہنا تھا کہ ماضی میں اخوان المسلمون مصری ذرائع بلاغ کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اخوان کے پاس پیشہ ورانہ مہارت کے حامل اپنے ہم خیال اہل صحافت کی کمی رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت نے مصرمیں "عدالت وانصاف" کے نام سے ایک میگزین کی اشاعت شروع کی۔ یہ تجربہ بھی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔ آج ترکی سے "رابعہ ٹیلی ویژن" اور قطر سے ایک اخبار کی اشاعت کی جا رہی ہے جن کی بقول ڈاکٹر علی ناکامی کے امکانات زیادہ ہیں۔