.

جنوبی سوڈان میں باغیوں نے اہم شہر پر قبضہ کر لیا

جوبا کے فوجی ترجمان نے "بور" کا کنڑول چھننے کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان میں حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ ناکام کوشش کے بعد باغیوں اور حکومت فورسز کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ سابق نائب صدر رک ماچر کے حامی باغیوں نے مشرقی صوبے جونگلائی کے دارالحکومت 'بور' پر قبضہ کر لیا ہے۔

جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان فِلپ اگیور نے تصدیق کی ہے کہ باغی بور پر قابض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے فوجیوں نے بدھ کو رات گئے رک ماچر کی فورسز کے ہاتھوں بور کا کنٹرول کھو دیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا: ’’گزشتہ شب فائرنگ ہوتی رہی اور ایسی دیگر کارروائیاں جاری ہیں اور ابھی ہمیں بے گھر افراد یا ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہیں۔‘‘

فِلپ اگیور کا یہ بھی کہنا ہے کہ دارالحکومت جوُبا میں سکیورٹی کی صورتِ حال اب کنٹرول میں ہے۔ بین الاقوامی برادری میں یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ جنوبی سوڈان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اتوار کو لڑائی شروع ہونے کے بعد اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں خوفزدہ شہری اپنے گھر بار چھوڑ چُکے ہیں۔ اگیور کا کہنا ہے: ’’جُوبا میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریبا 450 ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے تقریبا ایک سو فوجی ہیں۔ جنوبی سوڈان کی مشرقی ریاست جونگلائی انتہائی شورش زدہ ہے۔ بور اس کا اہم علاقہ ہے جو جُوبا کے شمال میں تقریبا 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

فوجی دستوں کے درمیان لڑائی اتوار کو شروع ہوئی تھی جو بعدازاں دارالحکومت جُوبا سے نکل کر دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔ بعدازاں صدر سلوا کیر نے ماچر پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

تاہم ماچر نے یہ الزام مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سلوا کیر اس الزام کی آڑ میں اپنے سیاسی حریفوں کو راستے سے ہٹا رہے ہیں۔ سلوا کیر نے ماچر کو جولائی میں نائب صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا جو اس وقت مفرور ہیں۔

دوسری جانب کینیا سمیت خطے کے چار ملکوں کے اہم وزراء تنازعے کے حل کے لیے جنوبی سوڈان پہنچ رہے ہیں۔ کینیا کی وزیر خارجہ امینہ محمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ جبوتی، ایتھوپیا اور یوگنڈا کے حکام کے ساتھ جنوبی سوڈان روانہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے اور کینیا کی حکومت کو اس کے حل کی کوششوں کا حصہ بننا ہو گا۔‘‘

اُدھر برطانوی دفتر خارجہ نے بتایا کہ جنوبی سوڈان سے نکلنے کے خواہاں برطانوی شہریوں کو نکالنے کے لیے ایک طیارہ روانہ ہو گیا ہے۔ برطانوی حکام نے بتایا کہ وہاں موجود ڈیڑھ سو سے زائد شہریوں نے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا ہے جن میں سے متعدد جنوبی سوڈان چھوڑنے کے لیے مدد چاہتے ہیں۔

قبل ازیں امریکا نے بھی ایک ملٹری طیارے کے ذریعے تقریبا ڈیڑھ سو شہریوں کے ساتھ ساتھ اپنے اور دیگر ملکوں کے سفارت کاروں کو جنوبی سوڈان سے نکالا۔