''کرپشن کے الزامات ''دو ترک وزیر مستعفی ہو گئے
وزیروں کیخلاف تحقیقات حکومت کیخلاف سازش ہے: مستعفی وزیر اقتصادی امور
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی کابینہ کے دو اہم ارکان کو بدھ کے روز اس وقت کرپشن کے الزامات کے باعث استعفے دے کر گھر جانا پڑ گیا جب طیب ایردوآن ایک کامیاب دورے کے بعد پاکستان سے لوٹے ہیں۔
بدھ کے روز پہلے وزیر اقتصادیات ظفرکاگلیان نے استعفی دیا اور کچھ ہی دیر بعد وزیر داخلہ معمر گولر نے اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے۔ دونوں مستعفی ہونے والے وزراء کے بیٹے ان 24 افراد میں شامل ہیں جنہیں کرپشن کے الزامات میں ایک ہفتہ پہلے 17 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
وزیر اقصادی امور نے ظفر کاگلیان نے اس موقع پر جاری کیے گئے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے '' میں اپنے منصب سے سبکدوش ہو رہا ہوں تاکہ میرے رفقاء اور بیٹے کی خلاف جاری برا کھیل ختم ہو سکے اور سچ سامنے آ سکے ۔''
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ''مبینہ کرپشن کی تحقیقات واضح طور پر ان کی جماعت اور حکومت کیخلاف ہی نہیں ملک کے خلاف بھی ایک گھناوںی سازش ہے۔''
وزیر اعظم طیب ایردوآن جو 2002 سے ترکی کے منتخب حکمران چلے آ رہے ہیں نے ان تحقیقات کو ترکی کو ایک بڑی سیاسی اور اقتصادی طاقت بنانے کی کوششوں کیخلاف رکاوٹ قرار دیا ہے۔
واضح رہے مبینہ کرپشن کا یہ سکینڈل ماہ مارچ سے ایک ماہ پہلے اس وقت سامنے آیا تھا جب ترکی کے بڑے شہر استنبول کی مئیرشپ کا الیکشن درپیش تھا، تاہم اب اس کی حیثیت پورے ملک کی سیاسی منظر نامے کیلیے ایک فالٹ لائن کی سی ہو گئی ہے۔ طیب ایردوآن کی حکومت پہلے ہی ماہ جون کے دوران عوامی احتجاجی کا سامنے آ چکا ہے
-
پاکستان اور ترکی کا باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
ترک وزیر اعظم کا لاہور پہنچنے پر شاندار استقبال
پاكستان -
ترکی اور یورپی یونین میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا معاہدہ
28 یورپی ممالک میں ترک شہریوں کو 2017ء میں ویزا فری داخلے کی اجازت ہوگی
بين الاقوامى -
ترکی: امام مسجد و موذن اور "راک" موسیقار، ایک شخص دو چہرے
"راک امام" میڈونا کے ساتھ فن کامظاہرہ کرنے کے خواہاں
بين الاقوامى -
ترکی و ایران میں سونے کی تجارت بحال ہو گی: ایران
"دیگر شعبوں میں بھی تجارت کو فروغ ملے گا"
بين الاقوامى