فرانسو اولاند کی سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان سے ملاقات

دونوں لیڈروں کا اہم علاقائی ،عالمی امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اپنے دورۂ سعودی عرب کے اختتام پر ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تعاون اور علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے اتوار کو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔شاہ عبداللہ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی صدر بشارالاسد نے اسلامی انتہا پسند کو تنازعے میں درآنے کا موقع دے کر اپنے ملک کو تباہ کردیا ہے۔

ایک فرانسیسی عہدے دار نے اس ملاقات کے حوالے سے اے ایف پی کو بتایا کہ ''شاہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کا علاقائی امور کے حوالے سے موقف یکساں ہے۔انھوں نے خطے کے بحرانوں کے حوالے سے فرانس کے دلیرانہ موقف کی حمایت کی''۔

سعودی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سلمان الدوسری نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرانسو اولاند کے دورے کے موقع پر تین بڑے ایشوز شام ،لبنان اور ایران پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔فرانس کے چار وزراء اور تیس سرکردہ کاروباری شخصیات بھی دورے میں صدر کے ہمراہ تھیں۔

فرانسو اولاند نے برطانیہ سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الحیات کے ساتھ اتوار کوشائع شدہ انٹرویو میں کہا کہ ''سعودی عرب فرانس کے نمایاں شراکت داروں میں سے ایک ہے''۔ مئی 2012ء میں صدرفرانس منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کا ان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب تک بشارالاسد اقتدار میں رہتے ہیں،تنازعے کا کوئی بھی سیاسی حل نہیں نکل سکتا''۔انھوں نے شامی صدر پر الزام عاید کیا کہ وہ بنیاد پرست جنگجوؤں کے خطرے کا واویلا کرکے اعتدال پسند حزب اختلاف پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ''سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں فرانس کا بڑی کاروباری شراکت دار بن چکا ہے اور 2013ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم آٹھ ارب یورو (گیارہ ارب ڈالرز) ہوگیا ہے۔ان میں فرانس کی تین ارب یورو کی برآمدات شامل ہیں''۔تاہم دوطرفہ تجارت کا توازن سعودی عرب کے حق میں ہے۔

فرانسیسی صدر نے ریاض میں لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری سے بھی ملاقات کی۔اس کے بعد انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس لبنانی حکومت کی جانب سے فوج کو مسلح کرنے کے لیے کسی بھی درخواست کو پورا کرنے کا تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں