.

لاپتا طیارے میں دو ایرانی چوری شدہ پاسپورٹس پر سوار تھے

ملائشیا کے لاپتا طیارے کے مشتبہ مسافروں کی شناخت ،ملبے کی تلاش کا کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے حکام نے لاپتا ہونے والے طیارے میں چوری شدہ پاسپورٹس پر سوار ہونے والے دونوں مسافروں کو شناخت کر لیا ہے اور وہ دونوں ایرانی ہیں جبکہ ملائشیا اور ویت نام کے پانیوں میں لاپتا طیارے کے ملبے کی تلاش کا کام جاری ہے۔

ملائشیا کے پولیس سربراہ خالد ابو بکر نے سوموار کو نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کرنے والے ان دونوں افراد کی شناخت ہوائی اڈے پر لگے سکیورٹی کیمروں سے ہوئی ہے اور وہ غیرملکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم اب اس بات کے تعین کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ آیا چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کرنے والے قانونی طریقے سے ملائشیا میں داخل ہوئے تھے یا وہ غیر قانونی طور پر آئے تھے۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں کے لیے علی نامی شخص نے ٹکٹ خرید کیے تھے۔

تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹریول ایجنٹ نے بتایا ہے کہ اس نے ان دونوں کے ٹکٹ بُک کیے تھے۔یہ دونوں مسافر کوالالمپور سے بیجنگ کے راستے ایمسٹرڈیم جارہے تھے۔ان میں سے ایک نے وہاں سے کوپن ہیگن کے لیے پرواز میں سوار ہونا تھا اور دوسرے نے فرینکفرٹ جانا تھا۔

ملائشین حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ساحلی حدود اور ویت نام کے ساحلی علاقے میں لاپتا طیارے کی تلاش کے ساتھ ساتھ جعلی شناختی دستاویزات پر سفر کرنے والے دومسافروں کے بارے میں مزید تحقیقات کررہے ہیں۔بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے گذشتہ روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ طیارے میں سوار دومسافر چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کررہے تھے اور ادارے کے پاس ان پاسپورٹس کا ریکارڈ موجود ہے۔

انٹرپول کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ طیارے کے تمام مسافروں کی دستاویزات کے جائزے سے مزید مشتبہ پاسپورٹس کا انکشاف ہوا ہے اور ان کی تحقیقات کی جائے گی۔فضائی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مسافروں کی تفصیل کے مطابق اس میں دو یورپین کے نام بھی شامل ہیں۔یہ آسٹرین کرسٹئین کوزل اور اطالوی شہری لوئگی میرالڈی ہیں لیکن ان دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں کے مطابق یہ دونوں یورپی شہری اس طیارے میں سوار ہی نہیں تھَے اور ان دونوں کے پاسپورٹس گذشتہ دو سال کے دوران تھائی لینڈ میں چُرا لیے گئے تھے۔

ملائشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ہشام الدین حسین نے بتایا ہے کہ حکام دو اور مسافروں کی شناخت کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔

دس ممالک کے درجنوں بحری جہاز اور طیارے ملائشیا اور ویت نام کے جنوب میں سمندروں میں طیارے کے ملبے کو تلاش کرر ہے ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے،ان شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ بوئنگ 777-200 ای آر کو کہیں بم دھماکے میں تباہ تو نہیں کردیا گیا یا اس کو لاپتا ہونے سے قبل اغوا تو نہیں کر لیا گیا تھا۔

ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کا مسافر طیارہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جارہا تھا اور پرواز کے تھوڑی دیر بعد لاپتا ہو کر راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات میں شریک ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''حقیقت یہ ہے ہم اب تک کوئی ملبہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ مسافر طیارہ ممکنہ طور پر پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر فضا ہی میں ٹکڑوں میں بٹ کر بکھر گیا ہوگا''۔

ملائشین ائیر لائنز کا بوئنگ طیارہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 12:40 پر کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بیجنگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔ملائشیا کے قصبے کوٹا بھارو سے 120 ناٹیکل میل دور مشرقی ساحلی علاقے پر پرواز کے دوران اس کا ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔اس نے اڑان بھرنے کے بعد شمال مشرق کی جانب رخ کیا تھا اور 35 ہزار فٹ کی بلندی تک گیا تھا۔اس کے بعد یہ راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔