لیبیا میں تیونسی سفارت کار اغواء، طرابلس کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس نے دعویٰ کیا ہے کہ لیبیا میں متعین اس کا ایک سفارت کار اغواء کر لیا گیا ہے تاہم طرابلس وزارت خارجہ نے کسی تیونسی سفارت کار کے اغواء کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ تاہم کسی غیر جانب دار ذریعے سے تیونسی سفارت کار کے اغواء کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تیونسی وزیر خارجہ منجی الحامدی نے "الشمس" ایف ایم ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک کے ایک سفارت کار کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے اغواء کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طرابلس میں تیونس کے سفیر کو مغوی سفارت کار محمد بالشیخ روحو کی خالی گاڑی ملی ہے لیکن سفارت کار کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

تیونیسی وزیر خارجہ نے طرابلس حکومت پر زور دیا کہ وہ سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے اور اغواء ہونے والے سفارت کار کا سراغ لگا کر اسے بازیاب کرائے۔

خیال رہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے خلاف برپا ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد قذافی کی چار عشروں پر محیط حکومت تو ختم ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد ملک مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ لیبیا میں آئے روز اہم شخصیات اغواء ہو رہی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ لیبیا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ آنجہانی کرنل قذافی کے حامی اور مخالف کھلے عام ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں