.

طرابلس میں لڑائی، امریکی سفارتی عملہ تیونس منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قائم اپنے سفارت خانے سے عارضی طور پر اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سفارت خانے کے قریب جاری لڑائی کے نتیجے میں یہ فیصلہ احتیاطی طور پر کیا گیا ہے۔ عملے کے افراد کو پڑوسی ملک تیونس منتقل کردیا ہے۔

بیان میں لیبیا میں سلامتی کی صورتِ حال کو "انتہائی خراب اور غیر مستحکم" قرار دیتے ہوئے امریکی شہریوں کو وہاں سے فوری انخلا اور لیبیا کا سفر نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمۂ خارجہ کےبیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں جنگجووں اور ملیشیاؤں کے پاس بھاری اسلحہ موجود ہے اور ملک کی حکومت 2011ء کے انقلاب کے بعد پولیس اور فوج کے اداروں کی تعمیر اور استحکام میں ناکام رہی ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی طرابلس میں مختلف ملیشیاؤں کے جنگجووں کے درمیان "آزادانہ تصادم" پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہفتے کو غزہ کی صورتِ حال پر پیرس میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ گو کہ طرابلس میں جاری گروہی جھڑپوں میں امریکی سفارت خانے کو نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن اس لڑائی کے نتیجے میں وہاں موجود عملے کے افراد کی سلامتی کو "شدید خطرات لاحق" ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل جمعہ کو ترکی کی وزارتِ خارجہ نے بھی طرابلس میں موجود اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کرتےہوئے لیبیا میں موجود 500 سے زائد ترک شہریوں کو تیونس منتقل کردیا تھا۔

طرابلس میں گزشتہ چند ہفتوں سے جنگجو گروہوں اور قبائلی ملیشیاؤں کے مابین دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے جھڑپیں ہورہی ہیں جن کے دائرے اور شدت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

علاقے سے آنے والی خبروں کے مطابق 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں ہونے والی یہ سب سے شدید جھڑپیں ہیں۔

جھڑپوں میں اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لیبیا کی حکومت اور پارلیمان کی جانب سے لڑائی روکنے کی تمام کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں۔