برطانیہ: اخوان سے متعلق رپورٹ کے اجراء میں تاخیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی حکومت کی مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے متعلق رپورٹ کے اجراء میں تاخیر کردی گئی ہے کیونکہ وزراء اور حکام کے درمیان اس رپورٹ کے مندرجات اور نتائج کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشیل ٹائمز میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے خلیج میں اپنے اتحادیوں کے دباؤ پر ایک سفارت کار کو اس امر کی تحقیقات پر مامور کیا تھا کہ آیا اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے۔

برطانیہ کے سرکاری ذرائع کے مطابق:''اس تحقیقاتی رپورٹ کا ماحصل یہ ہے کہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔نیز اس جماعت کے کارکنان کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بھی کوائی شواہد نہیں ملے ہیں''۔

فنانشیل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ''برطانوی وزراء نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی جانب سے مخالفانہ ردعمل کے پیش نظر اس رپورٹ کی اشاعت کو کئی ہفتے تک روکے رکھا ہے''۔برطانیہ کے خارجہ اور دولت مشترکہ دفتر نے فوری طور پر اخبار کی اس اطلاع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے قدیم اور منظم مذہبی سیاسی جماعت ہے۔مصر کے موجودہ صدر اور مسلح افواج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو اخوان سے تعلق رکھنے والے ملکی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔

اس کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک سال کے دوران کریک ڈاؤن کارروائیوں میں اخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان کو ہلاک کردیا ہے اور مرکزی رہ نماؤں سمیت ہزاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔انھیں مصری عدالتوں نے قتل ،بلووں اور دیگر الزامات کے تحت قائم مقدمات میں موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔تاہم ابھی تک اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت کسی رہ نما یا کارکن کی سزائے موت پرعمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

مصر کے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سینا میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں ہی کو جواز بنا کر مصر کی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا جبکہ اس کے سیاسی چہرہ حریت اورانصاف پارٹی پر بھی گذشتہ ہفتے پابندی کردی ہے۔مصر کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں