امریکا نے شام کی فضائی نگرانی شروع کر دی

شام میں کارروائیوں کی راہ ہموار ہو سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے شام کی فضائی نگرانی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نگرانی کا آغاز صدر اوباما کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔ شام کی فضائی نگرانی کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیوں کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

واضح رہے ایک روز قبل وائٹ ہاوس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اوباما نے شام میں فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس اجازت سے پہلے اوباما کو حساس اداروں کی طرف سے اضافی اطلاعات کی فراہمی ضروری ہو گی۔

ان دنوں پینٹاگان میں صدر اوباما کے لیے اس حوالے سے امکانی آپشنز پر مبنی بریفنگ کی تیاری کی جارہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان امکانی آپشنز میں شام میں کارروائیوں کی آپشن بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق اوباما انتظامیہ شام کے بارے میں قابل بھروسہ حساس معلومات چاہتی ہے جن کی بنیاد پر بہتر فیصلہ ممکن ہو سکے۔

امریکا نے داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں کا آغاز عراق سے کیا ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تین ہفتوں سے داعش کے ٹھکانے امریکی زد میں ہیں۔ اوباما نے یہ حکم عراق میں امریکی حکام کو درپیش خطرے کے پیش نظر دیا تھا۔

پینٹاگان کے حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عراق کے پڑوسی ملک شام میں بھی داعش کے اہداف کو نشانہ بنا کر ان کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ تاہم اوباما نے تین سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اب تک کارروائی کی سخت مزاحمت کی ہے۔

اب امریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت کے بعد صدر اوباما کے موقف میں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ فولی کو داعش نے یرغمال بنایا تھا اور ابھی چار مزید امریکیوں کو اسی انداز سے ہلاک کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنیسٹ نے پیر کے روز بتایا صدر نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے بعد شام کے لیے امریکی فوج کو بروئے کار لانے کا مضبوط اشارہ دے دیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا '' یہ درست ہے کہ بین الاقوامی سرحدوں کے باوجود'' تاہم اوباما کی طرف سے شامی نگرانی کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

وائٹ ہاوس نے کہا '' ہم حساس اداروں کی سرگرمیوں اور فوج کے آپریشنل معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم جیسا ہم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے تدارک کے لیے ہر طریقہ بروئے کر لاتے ہیں۔''

وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی سے متعلق ترجمان کیٹلین ہیڈن نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے تازہ فیصلے پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں