.

یمن : ایلیٹ پولیس کے سربراہ برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے دارالحکومت صنعا میں شیعہ حوثی باغیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے ایک روز بعد خصوصی فورسز کے کمانڈر جنرل فضل القوسی کو برطرف کردیا ہے۔

یمنی وزرت داخلہ کے ایک عہدے دار نے سوموار کو بتایا ہے کہ جنرل قوسی کی جگہ جنرل محمد الغدرہ کو پولیس کی خصوصی فورسز کا سربراہ مقرر کیا ہے۔تاہم ان کی برطرفی کی وجہ واضح نہیں کی گئی ہے۔

پولیس نے دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کو اتوار کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔مظاہرین کے مطابق ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم غیرملکی خبررساں اداروں نے اس ہلاکت اور زخمیوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

حوثی باغی 18 اگست سے صنعا کے نواح میں حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور انھوں نےاپنی اس مہم کو وسعت دیتے ہوئے شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا ہے۔مظاہرین نے وزارت داخلہ کے نزدیک شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے۔

یمن کی سپریم سکیورٹی کمیٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کالعدم جماعت کے کارکنوں نے بجلی اور ٹیلی مواصلات کی وزارتوں تک رسائی بند کررکھی ہے اور وہ ملازمین کو دفاتر میں داخل ہونے سے روکتے رہے ہیں''۔ عینی شاہدین کے مطابق صنعا کے باہر حوثی باغی سوموار کو سرکاری گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے یا باہر نکلنے سے روکتے رہے ہیں۔

حوثی باغیوں نے اتوار کو صنعا شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر نئے خیمے نصب کر دیے تھے،اس شاہراہ کو سیمنٹ کے بلاک لگا کر بند کردیا ہے اور انھوں نے بجلی اور ٹیلی مواصلات کی وزارتوں کی جانب جانے والے راستے کو بھی مسدود کردیا ہے۔

حوثی باغی حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات عاید کر رہے ہیں ،اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے صدر عبد ربہ ہادی منصور کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کی پیش کش اور ایندھن پر دیے جانے والے زر تلافی کی بحالی کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا ہے۔

حوثی باغی اہل تشیع کے زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ گذشتہ قریباً ایک عشرے سے شمالی یمن میں حوثیوں کو حقوق دلانے کے نام پرمسلح جدوجہد کررہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثی باغی شمالی یمن میں زیادہ سے زیادہ علاقے اپنے زیر نگیں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔