.

برطانیہ: مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ اور خوف

مسلم خواتین کے دوپٹے کھینچنے کے واقعات عام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سارے دوسرے برطانوی مسلمانوں کی طرح اسما شیخ کو بھی برطانیہ میں رہتے ہوئے نفرت کا سامنا ہے جس کی بنیاد اسلام کا خوف ہے، لیکن اس نے کبھی پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کرائی ہے۔

یہ پچھلے سال موسم گرما کی بات ہے جب لندن میں مسلمانوں کے خلاف جذبات خوب گرم تھے۔ ان دنوں ایک برطانوی فوجی لی رگبی مارا گیا تھا۔ اسے دو انتہا پسندوں نے لندن کی ایک گلی میں چاقو سے ہلاک کر دیا تھا۔

اس ہلاکت کے بعد سینکڑوں معصوم مسلمانوں کو اس کی پاداش میں نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مسلمان کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے کے علاوہ مسلمان خواتین کے دوپٹے چھیننے کی وارداتیں بھی ہوئیں۔

ان دنوں اسلام سے مغربی خوفزدگی کی بنیاد ہر ہر روز اوسطا سات وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان وارداتوں کا نشانہ بننے والوں میں سے 35 سالہ اسما شیخ بھی ایک تھیں۔ وہ اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھیں کہ ان کی نظر پڑی کے گاڑی کے چاروں ٹائر پھاڑ دیے گئے تھے۔

اسما شیخ کے مطابق '' یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا جسے اتفاق کہا جائے یا یہ دوسروں کے ساتھ بھی پیش آیا ہو، بلکہ ٹائر پھاڑنے کے علاوہ گاڑی کی سکرین پر لکھا تھا '' گھر واپس چلی جاو۔'' دو بچوں کی والدہ اسما شیخ کے بقول ان دنوں مسلمانوں کے خلاف بہت نفرت پائی جاتی تھی۔"

اسما شیخ جن کی والدہ اسلامی ملبوسات کی ایک دکان کی مالکہ ہیں کا کہنا ہے کہ ان کی بہت سی مسلمان سہیلیوں کو بھی اسی طرح کی تکالیف اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسما کے مطابق "تقریبا ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آجاتا تھا، یہ واقعات الٹے پلٹے ناموں سے پکارنے یا سروں سے سکارف کھینچنے کے حوالے سے ہوتے تھے۔
اسما شیخ کے بقول "ہر کسی کو اس طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔" ان کے بچے ایک اسلامی سکول میں پڑھتے ہیں، ایک روز وہ ٹرین پر سفر کر رہے تھے کہ ان کے یونیفارم کی بنیاد پر ان پر حملہ کیا گیا ۔ اسی طرح ان کی ایک دوست کا دوپٹہ کھینچا گیا ۔"

اسما شیخ نے بتایا اس واقعے کے ایک ماہ بعد تک یہ بچی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی اور جب وہ دوبارہ سکول گئی تو اس نے سر پر اس خوف سے دوپٹہ نہیں لیا۔

اسما شیخ اس حوالے سے تنہا نہیں ہیں کہ انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، نہ ہی وہ اس ناطے اکیلی ہیں کہ انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے '' میرا خیال تھا کہ اس طرح مجھ سے ہی زیادہ تفتیش ہو گی اور معاملہ سدھار کے بجائے بگاڑ کی طرف چلا جائے گا۔"

واقعہ یہ ہے کہ لندن پولیس اور عام لوگوں کے درمیان اس خوف اور خدشے کی بنیاد پر فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ بی بی سی ایک رپورٹ کے مطابق "پچھلے ایک سال کے مقابلے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم میں 65 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔"

اس رپورٹ کے لیے بی بی سی نے اعداد وشمار پولیس سے حاصل کیے ہیں۔ لیکن جب اس حوالے سے '' العربیہ '' نے لندن پولیس سے رجوع کیا تو پولیس کا کہنا تھا بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں تازہ ترین اعداد و شمار پیش نہیں کیے ہیں۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان کے مطابق ''مسلمانوں کے خلاف جرائم میں پاانچ اعشاریہ نو فیصد کمی ائی ہے۔"ترجمان پولیس نے بتایا '' 2013 میں ان جرائم کی تعداد 512 تھی جبکہ رواں سال ماہ اگست تک ان جرائم کی تعداد 482 رہی ہے۔"

لیکن اگر پولیس سے رجوع نہ کرنے کے متاثرہ مسلمانوں کے رجحان کو مد نظر رکھا جائے تو نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری جان بی بی سی بھی اپنے پیش کردہ اعدادو شمار پر قائم ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس ہی کے پیش کردہ اعداد و شمار کا ہی حوالہ دیا ہے۔

اس تناظر میں پولیس کے اس دعوے کے باوجود کہ ''اسلامو فوبیا '' کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں کمی ہو رہی ہے، بہت سارے ماہرین اس کے برعکس رائے دیتے ہیں۔

'' اسلامو فوبیا ''مانیٹرنگ گروپ کے ڈائریکٹر فیاض مغل کا اس بارے میں کہنا ہے '' پولیس کے بتائے گئے اعدادو شمار سچ کو ظاہر نہیں کرتے ہیں۔'' تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ '' 65 فیصد اضافے کی تعداد ہو سکتا ہے زیادہ والی ہو۔''

ان کے بقول ''ایک سال میں ان جرائم میں اضافہ ایک تہائی ہو سکتا ہے۔ فیاض مغل نے بتایا کہ '' مسلم کمیونٹی پچھلے دوسال سے ان جرائم میں اضافے کی نشان دہی کر رہی ہے، جبکہ پولیس اندراج نہ کرائے گئے واقعات کو رپورٹ نہیں کرتی ہے۔ ''

فیاض مغل نے یہ بھی کہا '' ان اعداد و شمار کو کم بتانے کی وجوہ سیاسی بھی ہیں، اس صورت حال میں ''اسلامو فوبیا '' تو موجود ہے لیکن اسما شیخ ایسی خواتین بالخصوص ان واقعات کو رپورٹ نہیں کرتی ہیں، بہت ساری خواتین ایک نئے بکھیڑے میں نہیں پڑنا چاہتی ہیں۔''

برطانوی مسلم کونسل کی ممبر شپ کمیٹی کے سربراہ طلحہ احمد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ''اسلامو فوبیا'' کے تحت ہونے والے واقعات کا سرکاری ریکارڈ زمینی حقائق سے کمتر ہے۔

طلحہ احمد کے مطابق اس کی ایک وجہ اعتماد کی کمی ہے، حکومت کو چاہیے اس سلسلے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے کہ لوگ مقدمات درج کرائیں۔''