.

داعش کا کوبانی میں کرد ہیڈکوارٹر پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی (داعش) نے شام کے کرد آبادی والے شہر کوبانی (عین العرب) پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے شہر میں کرد جنگجوؤں کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے جمعہ کے روز ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ داعش کا کوبانی کے قریباً چالیس فی صد حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور انھوں نے سکیورٹی کوارٹرز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔اس میں مقامی حکومت کے زیر استعمال انتظامی عمارتیں بھی واقع ہیں۔

درایں اثناء امریکا کے قومی سلامتی کے نائب مشیر ٹونی بلنکن نے کہا ہے :''وہ نہیں جانتے کہ کیا ہونے جارہا ہے کیونکہ زمینی فوج کی عدم موجودگی کی صورت میں ہم داعش کو صرف فضائی قوت کے ذریعے شہر پر قبضہ کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں''۔

انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اگر صورت حال یہی رہتی ہے تو پھر کوبانی ایسی صورت حال دوسرے علاقوں میں بھی رونما ہوسکتی ہے۔عراق اور شام میں روزانہ کی بنیاد پر ہی کوبانی ایسے حالات رونما ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹیفن ڈی مستورا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کوبانی میں بھی بوسنیا کے قصبے سربرنیکا ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔یادرہے کہ 1995ء میں سربوں نے اس قصبے پر قبضے کے بعد آٹھ ہزار مسلمانوں کو ہلاک کردیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں یہ بدترین قتل عام تھا اور اقوام متحدہ کے امن فوجی اس کو رکوانے میں ناکام رہے تھے۔

ڈی مستورا کا کہنا ہے کہ اگر کوبانی کا سقوط ہوتا ہے تو وہاں موجود قریباً سات سو ضعیف العمر افراد کے علاوہ کرد جنگجوؤں اور سرحدی علاقے میں پھنسے ہوئے بارہ ہزار افراد کے داعش کے ہاتھوں قتل عام کا خدشہ ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ''جب تک شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہیں''۔