.

داعش کے خلاف امریکا،ایران فوجی تعاون نہیں:رائس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے امریکا اور ایران کے درمیان عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ میں فوجی تعاون کی اطلاعات تردید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران سوزن رائس ایک رپورٹ سے متعلق سوال کا جواب دے رہی تھیں جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر براک اوباما نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو داعش کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے۔مس رائس نے کہا کہ '' ہم ایران کے ساتھ داعش سے متعلق کسی بھی طرح کے فوجی رابطے میں نہیں ہیں''۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ صدر اوباما نے گذشتہ ماہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ داعش کے خلاف ایک مشترکہ جنگ لڑرہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 1979ء سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود بعض امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ ایران شام اور عراق میں جاری بحرانوں کے حل اور وہاں استحکام لانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے مذکورہ رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ ''میں صدر اور کسی عالمی لیڈر کے درمیان نجی خط وکتابت پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں''۔

ایران اور امریکا اس وقت جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کے حساس نوعیت کے کام ،اعلیٰ سطح کی یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجائے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیاں بتدریج ختم کردی جائیں گی۔

مسٹر جوش ایرنسٹ کا کہنا تھا کہ جوہری تنازعے پر مذاکرات کے گذشتہ ادوار میں امریکا اور ایران کے درمیان داعش کے جنگجوؤں سے درپیش خطرے پر بات چیت ہوئی تھی لیکن انھوں نے امریکا کے اس موقف کااعادہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ داعش کے خلاف کوششوں میں کوئی فوجی تعاون کرے گا اور نہ وہ ایرانیوں کے ساتھ سراغرسانی کا کوئی تبادلہ کرے گا۔

صدر براک اوباما نے خامنہ ای کے نام لکھے گئے خط میں مبینہ طور پر یہ کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں تعاون کا انحصار جامع جوہری معاہدے کے طے پانے پر ہوگا۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق براک اوباما کا 2009ء میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایرانی لیڈر کے نام یہ چوتھا خط تھا لیکن انھوں نے ان میں سے کسی ایک خط کا بھی آج تک جواب نہیں دیا ہے۔

امریکا کے مشرق وسطیٰ میں بہت سے اتحادی ممالک اوباما انتظامیہ کے ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط اور مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں۔ان میں اسرائیل اور سعودی عرب پیش پیش ہیں۔وال اسٹریٹ کے ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ان اتحادی ممالک کو صدر اوباما کے علی خامنہ ای کے نام اس خط کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔