ایران: ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور

فٹ پاتھوں پر رات گذارنے والوں میں تین ہزار خواتین بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں غُربت اور پسماندگی کے باعث پندرہ ہزار شہری موسم کی شدتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان لوگوں کے پاس رہنے کو مکان کی چھت، پہننے کو مناسب لباس اور کھانے کو خوراک میسر نہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کھلے آسمان تلے شب گذارنے والوں میں تین ہزار خواتین بھی شامل ہیں جن میں سے بیشتر کی عمریں 17 اور 18 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فُٹ پاتھوں پر زندگی گذارنے والوں کے بارے میں یہ چشم کشا انکشافات تہران بلدیہ کے زیر اہتمام تحفظ و ماحولیات کمیٹی کے چیئرمین رحمت اللہ حافظی نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کئے۔

انہوں نے بتایا کہ تہران میں سڑکوں کنارے رات کو ہزاروں کی تعداد میں شہری نہایت کسمپرسی میں وقت گذارتے ہیں۔ ان کے پاس اوڑھنے اور بچھونے کے لیے بھی کپڑے نہیں اور وہ گذر اوقات کے لیے گتے کی خالی پیکنگ استعمال کرتے ہیں۔

رحمت اللہ حافظی کا کہنا تھا کہ فٹ پاتھوں پر رات گذارنے والوں کے لیے موسم سرما نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ تہران میں نہ صرف سردیوں میں شدید بارشیں ہوتی ہیں بلکہ برف باری بھی ہوتی ہے۔ موسم کی اسی شدت میں کم عمر بچے، بوڑھے اور عورتیں بھی ٹھٹرتے ہوئے رات کھلے آسمان تل گذارتے ہیں۔ ان میں سترہ اور اٹھارہ سال کی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

حافظی کا یہ بیان ایرانی خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ نے نقل کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تہران حکومت سڑکوں پر رات گذارنے والے غریب شہریوں کو پناہ گاہ اور چھت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ موسم سرما اپنے جوبن پر ہے اور فٹ پاتھوں پر رات گذارنے والے غرباء کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے عدلیہ اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کی سڑکوں پر وقت گٓذارنے پر مجبور غریب لوگوں کو ٹھکانہ مہیا کرنے کے حوالے سے قانون سازی کریں تاکہ ان لوگوں کی مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر شب بشری صرف تہران ہی میں نہیں بلکہ اصفہان، مشہد سمیت ملک کی 15 گورنریوں میں لوگ گتے کے خالی ڈبوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر رات سڑکوں، پارکس اور کھلے مقامات پر گذارنے پرمجبور ہیں۔

ماہرین کے خیال میں ایران میں تیزی سے بڑھتی غربت، بے روزگاری اور منشیات کی لعنت کے باعث ’’کارٹن کلچر‘‘ یعنی سڑکوں پر کاغذ کے پیکٹوں کو اوڑھنا بچھونا بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکوں پر رات گذارنے والے شہری غربت کی وجہ سے کوئی مکان کرائے پر لے سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت ان کی مدد کر رہی ہے۔ ایرانی میڈیا میں ان بے خانما لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

تہران بلدیہ کے میئر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر شب بسری کرنے والے لوگ خود داری اور عزت نفس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتے ہیں مگر کسی کے سامنے بھیک کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں