ایران نے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت اور فوجی سامان کے ساتھ حوثیوں کی مدد کی: رائٹرز

ملٹری سامان اور پاسداران انقلاب کے افراد کو 13 جولائی کو ایک طیارے سے یمن بھیجیا گیا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

چار باخبر ذرائع نے "رائٹرز" ایجنسی کو انکشاف کیا ہے کہ ایران نے رواں ماہ جولائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے قائدین اور فوجی مشیر اور ساتھ ہی میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق مخصوص سامان کی کھیپیں یمن بھیجی ہیں۔ اس قدم سے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو دھمکانے کی حوثی جماعت کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ان چار ذرائع میں دو ایرانی ذرائع، یمنی وزیرِ اطلاعات اور ایک علاقائی سکیورٹی تجزئیہ کار شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران نے ملٹری سامان کے علاوہ پاسدارانِ انقلابِ کے افراد کو 13 جولائی کو ایرانی دارالحکومت تہران سے یمن کے لیے پرواز کرنے والے ایک طیارے پر منتقل کیا تھا۔ اس حوالے سے پہلے انکشاف نہیں ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اپنے حوثی اتحادیوں کے لیے ایران کی حمایت اور ان کی فوجی صلاحیتوں کو بالخصوص میزائلوں اور ڈرونز کے میدان میں مضبوط کرنے کے فریم ورک کے تحت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی تجارتی راہداریوں میں سے ایک انتہائی اہم راہداری بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

دو ایرانی ذرائع نے "رائٹرز" کو بتایا کہ ’’ ماہان ایئر‘‘ کمپنی کی طرف سے چلائی جانے والی پرواز نے پاسدارانِ انقلاب کے 10 سے 21 افراد کو منتقل کیا جن میں بڑے قائدین بھی شامل تھے۔ طیارے کی مقررہ منزل پہلے دارالحکومت صنعاء تھی جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے لیکن یمنی حکومت کی طرف سے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد اس کی منزل بحیرہ احمر پر واقع حدیدہ بندرگاہ میں تبدیل کر دی گئی۔

ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے قائدین نے حوثیوں کے آپریشنز کی حمایت اور نئے میزائل سسٹمز پر تربیت فراہم کرنے کے لیے وہاں کا سفر کیا۔ ایران نے حوثیوں کی سرگرمیوں کی مالی اعانت کے لیے طیارے پر سونے کی ایک مقدار بھی بھیجی تھی۔

دونوں ایرانی ذرائع نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایران کی طرف سے اس حمایت کی فراہمی تہران کی ان کوششوں کا ایک نیا ثبوت پیش کرتی ہے جو حوثیوں کی حمایت کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حوثی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ساتھ جنگ کر رہے ہیح اور انہوں نے علاقے میں میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ تجارتی اور فوجی جہازوں پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں۔ ان حملوں نے امریکہ اور دیگر ملکوں کو خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی آپریشنز تیز کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ یمن میں حوثیوں کی طرف سے کیے جانے والے کسی بھی نئے حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا۔ انہوں نے تہران اور خود اس جماعت کو بڑے فوجی عذاب کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے حوثی جماعت سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ واشنگٹن نے ایک سال پہلے جہازوں پر فائرنگ کر کے بحری تجارت میں مداخلت کی وجہ سے حوثیوں کے خلاف ایک طاقتور حملہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں کی جماعت نے اس کے بعد کے عرصے میں اور ایران کے ساتھ مقابلے کے دوران بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن انہوں نے کہا کہ انہوں نے کل رات دو سعودی جہازوں پر فائرنگ کر کے دوبارہ شروعات کردی ہیں۔

امریکی صدر نے زور دیا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اسے ایک متنبہ کرنے والی حقیقت سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا دوبارہ کرتے ہیں تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اور یہ اس اعتبار سے ہوگا کہ حوثی ایران کے ایجنٹ یا نائب ہیں۔ یاد رہے حوثیوں کی جانب سے ایک سعودی کمپنی سے متعلق ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی جنرل ترانسپورٹ اتھارٹی کے ایک ذمہ دار ذریعہ نے بیان دیا کہ ایک سعودی کمپنی سے متعلق بحری جہاز "اینسیلیا" کو بحیرہ احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔ ذریعہ نے بتایا کہ عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔

متعلقہ حکام نے جہاز اور اس کے عملے کو محفوظ بنانے اور بحری ماحول کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔ سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے معاہدے کے مطابق اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں