.

حوثیوں کا یمن کے سرکاری ٹی وی پر قبضہ

صنعا میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج میں لڑائی، 2 افراد ہلاک ،14 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔یمنی وزیراطلاعات نے ان کی اس کارروائی کو بغاوت قرار دیا ہے۔

حوثی باغیوں نے سوموار کو سرکاری فوج کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سرکاری ٹی وی کی عمارت پر چڑھائی کی ہے۔قبل ازیں سرکاری فوج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان صنعا میں صدارتی محل کے نزدیک لڑائی میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے تھے۔قدس ملٹری اسپتال کے ذرائع نے ان دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

حوثی باغیوں کے ایک عہدے دار نے جنگ بندی سے متعلق سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹس کی تصدیق کی ہے لیکن اس کے باوجود یمنی وزیراعظم کے قافلے پر حوثی جنگجوؤں نے شدید فائرنگ کی ہے۔تاہم وزیراعظم اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

درایں اثناء صدر عبد ربہ منصور ہادی نے حوثی عہدے داروں سمیت اپنے مختلف مشیروں سے ملاقات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ سیاسی اور آئینی امور سے متعلق پر تبادلہ خیال کریں گے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صدر ہادی کی قیام گاہ کے نزدیک سوموار کی صبح سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ حوثی باغیوں نے صدر کی قیام گاہ کے نزدیک واقع متعدد مکانوں پر دھاوا بول دیا تھا۔

صنعا میں یہ جھڑپیں یمن کے جنوبی صوبوں سے تعلق رکھنے والے رہ نماؤں کی جانب سے حوثیوں کو صدر کے چیف آف اسٹاف احمد عواد بن مبارک کی رہائی کے لیے چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ہوئی ہیں۔صوبہ شیبوۃ کے گورنر نے اتوار کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایوان صدر کے عہدے دار کو رہا نہ کیا گیا تو ان کے صوبے میں نصف شب سے تیل کمپنیاں اپنا کام بند کردیں گی۔

احمد عواد کو شیعہ حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز اغوا کر لیا تھا۔وہ جنوبی صوبے شیبوۃ سے تعلق رکھتے ہیں۔حوثی جنگجو زیدی شیعہ فرقے اور ملک کے شمالی صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے ستمبر سے دارالحکومت پر قبضہ کررکھا ہے اورانھوں نے ملک کے وسطی اور مغربی صوبوں کی جانب بھی پیش قدمی کی ہے لیکن انھیں ان صوبوں میں مسلح سنی قبائل اور القاعدہ کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔