مرشد نے "نہ جنگ اور نہ صلح" کی حالت ختم کرنے کی ہدایت دے دی : ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بات واضح کی ہے کہ ملک میں تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے باور کرایا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ان کے ساتھ رابطے کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

منگل کے روز صنعت و کان کنی کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ خامنہ ای نے خصوصی ملاقاتوں میں "نہ جنگ اور نہ صلح" کی حالت کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں تہران کا موقف اس بات پر مبنی تھا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے سے پہلے آبنائے ہرمز کو تیل کی برآمدات کے لیے دوبارہ کھولا جائے اور دیگر اہم مسائل کو حل کیا جائے۔

پزشکیان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے تقرر کے بعد سے عوامی سطح پر ظاہر ہونے سے گریز کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حالت کے بارے میں قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔ ایسے میں افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ ان امریکی اسرائیلی حملوں میں زخمی ہو گئے تھے جن میں جنگ کے آغاز میں ان کے والد مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ ایرانی صدر نے امریکہ پر ایک بار پھر یہ الزام عائد کیا کہ وہ اندرونی دباؤ پیدا کرنے اور معاشرتی انحطاط کا سبب بننے کے مقصد سے "جامع جنگ" لڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد ملک کو کمزور کرنا تھا، تاہم اندرونی ہم آہنگی اور پیداوار کرنے والوں اور صنعت کاروں کی استقامت نے ان مقاصد کو حاصل کرنے سے روک دیا۔

پزشکیان نے مزید کہا کہ جسے انہوں نے "دشمن" قرار دیا اس کی طرف سے جنگ کے دوران اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی نے اسے اپنا رویہ تبدیل کرنے اور بات چیت کی طرف رخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے مذاکرات کے بارے میں اندر سے آنے والے بعض بیانات پر تنقید کی، یہ مانتے ہوئے کہ وہ ان کامیابیوں کو کم کرتے ہیں جو ان کے ملک نے حاصل کی ہیں اور اس بات کی دعوت دی کہ غیر سوچ سمجھ کر تبصروں کے ذریعے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو کم نہ کیا جائے۔

ایرانی صدر کا بیان ایران کے اندر فوجی حملوں کے تسلسل کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، چنانچہ ایرانی ٹیلی ویژن نے ملک کے مغرب میں واقع صوبہ لرستان کے شہر خرم آباد کے پہاڑی علاقوں میں ایک مقام پر نئے حملے کی خبر دی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی نے اسلام آباد کا دورہ شروع کیا، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منير سے ملاقات کی۔

العربية/الحدث کے ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری پر تبادلہ خیال کیا، اور یہ واضح کیا کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بیان دیا تھا کہ ملک پر امریکی فوجی حملوں کے باوجود ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں۔

یہ عسکری کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ سینٹ کام نے ایران کے اندر مسلسل دسویں رات کے حملوں کے نفاذ کا اعلان کیا اور تصدیق کی کہ اس نے فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

اس کے مقابلے میں ایران نے کویت، بحرین اور اردن کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کا اعلان کیا جو 17 جون کو دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کو پاش پاش کرنے والی کشیدگی کا حصہ ہے۔ یاد داشت میں جنگ کے خاتمے کے لیے تصفیہ تک پہنچنے کے مقصد سے ایرانی جوہری فائل اور دیگر امور پر مذاکرات کا آغاز شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں