یمنی صدر حوثیوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ
یمن کے محصور صدر عبد ربہ منصور ہادی نے حوثی شیعہ باغیوں کے مجوزہ آئین میں تبدیلیوں اور شراکت اقتدار سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
یہ بات امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کی رات صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ''صدر ہادی کی حکومت حوثیوں کے اگر تمام نہیں تو زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے جارہی ہے''۔
انھوں نے واشنگٹن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ ''حوثیوں نے ملک میں امن اور شراکت اقتدار کے سمجھوتے اور اس کے نفاذ سے متعلق تمام مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار پر متشدد انداز اختیار کیا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض اداروں کا بریک ڈاؤن ہوگیا ہے''۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغی ابھی تک عبد ربہ منصور ہادی کو صدر تسلیم کررہے ہیں اور امریکی حکام یمنی صدر سے ایک اور ملاقات کے منتظر ہیں۔صنعا میں اسی ہفتے تشدد کے واقعات کے بعد بدھ کو صورت حال پر قدرے پُرامن رہی تھی۔جان کیری کا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ''ہمارے اہلکاروں کا بھرپور طریقے سے تحفظ کیا جارہا ہے اور ہمارے وہاں بہت سے اہلکار موجود ہیں''۔
قبل ازیں امریکی حکام نے کہا تھا کہ واشنگٹن یمن میں رونما ہونے والے واقعات اور بحران کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ منگل کو صنعا میں ایک امریکی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔
صدر منصور ہادی نے حوثیوں کے ایک عہدے دار کے ساتھ ملاقات کے بعد بدھ کی رات جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''حوثی شیعوں کو تمام ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے اور اسامیوں پر تعینات ہونے کا حق حاصل ہے اور مجوزہ آئین کے مسودے میں ترامیم کی جاسکتی ہیں''۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے صدارتی محل ،صدر کی نجی رہائش گاہ،وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور میزائل بیس سے جنگجوؤں کو واپس بلانے سے اتفاق کیا ہے اور وہ ان کے چیف آف سٹاف عواد بن مبارک کو بھی جلد رہا کردیں گے۔
حوثی باغیوں نے یمنی صدر کوان کی نجی رہائش گاہ تک محدود ومحصور کررکھا ہے اور وہ اس کے باہر پہرا دے رہے ہیں۔صدر کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ منصور ہادی نے ایک حوثی عہدے دار سے ملاقات کی تھی اور وہ اپنے گھر پر نظر بند نہیں ہیں۔ حوثی شیعہ باغیوں کے سیاسی شعبے کے ایک رکن محمد بخیتی کا کہنا تھا کہ ''صدر منصور ہادی گھر پر موجود ہیں۔انھیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں اور وہ وہاں سے کہیں اور جاسکتے ہیں''۔
العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم خالد بحاح اور صدارتی گارڈز کے سربراہ محل سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔صدارتی گارڈز کے سربراہ جنوبی شہر عدن کی جانب گئے ہیں۔
-
سلامتی کونسل کی یمن میں حوثی بغاوت کی مذمت
سیاسی قوتوں سے صدر ھادی کی حمایت کا مطالبہ
مشرق وسطی -
حوثی لیڈر کی یمن میں بغاوت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش
صدر ھادی کرپشن کا دفاع کر رہے ہیں: عبدالملک حوثی
مشرق وسطی -
حوثی جنگجو یمن کے صدارتی محل میں داخل
باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک
بين الاقوامى -
حوثیوں کا یمن کے سرکاری ٹی وی پر قبضہ
صنعا میں حوثی باغیوں اور سرکاری فوج میں لڑائی، 2 افراد ہلاک ،14 زخمی
بين الاقوامى -
یمن: حوثیوں کو مآرب قبائل کی سخت دھمکی
یمن میں حکومت مخالف بندوق بردار حوثی اور القاعدہ گروپوں کی سرکاری فوج کے ساتھ ملک ...
بين الاقوامى -
یمن میں کار بم دھماکا، 33 افراد ہلاک
دارالحکومت صنعاء کے وسط میں پولیس کالج کے کیڈٹس پر حملہ
مشرق وسطی