.

صدر اوباما کا شاہ سلمان سے مختلف امور پر تبادلہ خیال

امریکا عرب ،اسرائیل تنازعہ طے کرانے میں کردار ادا کرے:سعودی شاہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے سعودی دارالحکومت الریاض میں آمد کے بعد اپنے وفد کے ہمراہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن ؛عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے۔ان سے مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات ،مشرق وسطیٰ کی صورت حال ،عرب، اسرائیلی تنازعے اور ایران سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس ملاقات کے بعد سعودی عرب کے شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''شاہ سلمان نے صدر اوباما پر عرب اسرائیلی تنازعے کے حل کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا ہے۔دونوں لیڈروں نے یمن اور شام میں جاری بحرانوں اور ان کے تناظر میں ایرانی فائل پر بھی بات چیت کی ہے''۔

قبل ازیں امریکی صدر براک اوباما منگل کی سہ پہر اپنی اہلیہ مشعل اوباما اور اعلیٰ سطح کے کثیر جماعتی تیس رکنی وفد کے ہمراہ الریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بہ نفس نفیس ان کا خیرمقدم کیا ہے۔امریکی صدر اپنا بھارت کا دورہ مختصر کرکے سعودی دارالحکومت پہنچے تھے۔وہ اس سے پہلے سعودی عرب کا دو مرتبہ سرکاری دورہ کرچکے ہیں۔

امریکی صدر کو ان کی آمد پر سعودی فوج کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ان کا استقبال کرنے والوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ،نائب ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز،صوبہ الریاض کے گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ ،شاہی پروٹوکول کے صدر محمد بن عبدالرحمان الطبیشی ،امریکا میں سعودی سفیر عادل بن احمد آل جبیر اور سعودی عرب میں امریکی سفیر جوزف ویسٹ فال بھی شامل تھے۔

امریکی وفد

امریکا کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈز نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد شاہ عبداللہ کے انتقال پر تعزیت کے علاوہ نئی سعودی قیادت کے ساتھ ایسے ایشوز پر تبادلہ خیال کرنا ہے جن پر ہم دونوں ممالک مل کر کام کررہے ہیں۔ان میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ ،یمن کی صورت حال ،ایران کے جوہری تنازعے پرجاری مذاکرات اور امریکا اور سعودی عرب کے درمیان وسیع تر تعلقات ایسے موضوعات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ کے انتقال کی خبر سننے کے بعد دونوں جماعتوں ڈیمو کریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے ایسے لیڈروں کو صدر اوباما کے ساتھ وفد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جنھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار کیا ہے اور جو شاہ عبداللہ کو زیادہ اچھے طریقے سے جانتے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر اوباما کے ساتھ وفد میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سرکردہ ارکان کے علاوہ سابق اور موجودہ امریکی عہدے دار شامل ہیں۔ ان میں ری پبلکن پارٹی کے مدبر سیاست دان اور سابق وزیرخارجہ جیمز بیکر اور سابق امریکی صدور فورڈ سے ایچ ڈبلیو بش تک قومی سلامتی کے مشیر برینٹ سکو کرافٹ ،سابق صدر جارج ڈبلیوبش کی سیکریٹری آف اسٹیٹ کنڈولیزا رائس ،ان کے قومی سلامتی کے مشیر اسٹیفن ہیڈلے اور ری پبلکن سینیٹر جان مکین نمایاں ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری ،سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینان ،ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اقلیتی لیڈر نینسی پیلوسی ،صدر اوباما کی قومی سلامتی کی مشیر سوسان رائس اور مشیر برائے انسداد دہشت گردی لیساموناکو بھی صدر کے وفد کا حصہ ہیں۔شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز گذشتہ جمعہ کو مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے تھے۔ان کی جگہ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالا ہے۔

صدر اوباما نے قبل ازیں شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر شاہ عبداللہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا تھا۔وہ اب بھارت کے تین روزہ دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے ہیں۔وزیرخارجہ جان کیری اور وفد کے دوسرے ارکان جرمنی سے الریاض آئے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے ایک تعزیتی بیان میں مرحوم شاہ عبداللہ کو ایک نڈر اور راست باز لیڈر قرار دیا تھا۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ان کے انتقال پر کہا تھا کہ امریکا ایک دانش مند اور وژن والے دوست سے محروم ہوگیا ہے۔

عرب اور مسلم دنیا کے لیڈروں نے شاہ عبداللہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی اور ان کے علاوہ مغربی ممالک کے سربراہان ریاست ومملکت کی بڑی تعداد؛ اختتام ہفتہ پر الریاض پہنچی تھی اور انھوں نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کے ساتھ ملاقاتوں میں شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا تھا اور علاقائی اور عالمی سیاست میں ان کی خدمات کو سراہا تھا اور انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔