یمن کے متحارب دھڑے عبوری کونسل پر متفق
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار اس ملک کے متحارب دھڑوں نے ایک عوامی عبوری کونسل کے قیام سے اتفاق کیا ہے جو ملک کا نظم ونسق چلائے گی اور اس کو موجودہ بحران سے نکالے گی۔
جمال بن عمر یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کے گذشتہ ماہ حکومت پر قبضے کے بعد سے بحران کے حل کے لیے متحارب فریقوں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔حوثی باغی حکومت اور پارلیمان کو چلتا کرنے کے بعد اب امور مملکت خود چلا رہے ہیں۔
یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح 22 جنوری کو حوثی شیعہ باغیوں کی صدارتی محل پر چڑھائی اور دوسری سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔یمنی دارالحکومت میں اس وقت طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور ملک میں کسی مرکزی حکومت کا وجود نہیں ہے جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کا صنعا اور ملک کے شمالی شہروں میں راج ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے شمالی صوبوں سے تعلق رکھنے والے حوثی شیعہ باغیوں نے 21 ستمبر2014ء سے صنعا پر قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے سرکاری فورسز کو مار بھگانے کے بعد اب وہاں صدارتی محل سمیت تمام سرکاری عمارات اور شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔حوثی اہل تشیع کے زیدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے مخالفین انھیں ایران کے آلہ کار قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں بھی ایران کی طرح کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔تاہم حوثی اس الزام کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔