.

ڈیل ایران کا جوہری ''بریک آؤٹ'' مؤخر کردے گی: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر بات چیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں کوئی بھی ڈیل ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ''بریک آؤٹ'' کو مؤخر کردے گی۔

انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی امریکی کانگریس میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف تندوتیز تقریر کے ایک روز بعد جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ''ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے کے لیے کسی نے بھی کوئی اور قابل عمل آپشن پیش نہیں کیا ہے''۔

جان کیری نے کہا کہ وہ بیرونی عوامل یا سیاست کی وجہ سے مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوں گے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ڈیل میں تصدیقی اقدامات اور اس کی جوہری تنصیبات تک رسائی کی شقیں شامل ہوں گی۔اس کے علاوہ اس ڈیل سے ایران کو جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار وقت بڑھ جائے گا۔

جان کیری نے ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ تین روز تک بات چیت کے بعد کہا ہے کہ فریقین کے درمیان حائل خلیج کو ابھی پاٹا نہیں جا سکا ہے اور ان کے درمیان ابھی فاصلے حائل ہیں۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی کانگریس میں ایران مخالف تقریر کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے کوئی قابل عمل متبادل تجویز بھی تو پیش نہیں کی ہے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر معاہدہ طے بھی پاجاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہ اس ملک کی دوسری سرگرمیوں سے آنکھیں موند لیں گے۔واضح رہے کہ امریکا ایران کو ریاستی سطح پر دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والا ملک قرار دیتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدے دار نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمارا نیو کلئیر فائل پر کوئی سمجھوتا طے بھی پاجاتا ہے تو اس سے خطے کے استحکام میں براہ راست مدد ملے گی۔

البتہ اس عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ ''نیو کلئیرفائل کے ساتھ کیا ہوتا ہے،اس سے قطع نظر ہم ایران کی خطے میں توسیع پسندی اور جارحیت پسندی سے نمٹنے کے لیے جارحانہ انداز میں کوششیں جاری رکھیں گے''۔