.

کرپشن کے الزام میں حسنی مبارک اور بیٹوں کو قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک مصری عدالت نے سابق مصری صدر حسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں کو مالی معاملات میں خرد برد کے الزام میں تین سال کی سزا سنا دی ہے۔

حسنی مبارک اور ان کے بیٹے علاء اور جمال دونوں ہی اس فیصلے کے موقع پر عدالت میں ایک پنجرے میں موجود تھے۔ حسنی مبارک کے وکلاء اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ان کی سزا میں زیر حراست وقت شامل ہوگا یا نہیں۔ مبارک خاندان کے تینوں افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے صدارتی محلات کی تزعین وآرائش کے لئے وقف پیسوں سے ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر نو کی ہے۔

فروری 2011ء میں ایک عوامی مہم کے نتیجے میں تخت اقتدار سے اترنے والے حسنی مبارک کو پچھلے سال مئی میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے دو بیٹوں کو ان کے ساتھ ہی چار سال کی قید سنائی گئی تھی۔

مگر جنوری 2014 میں میں قاہرہ کی ایک عدالت نے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

حسنی مبارک کو اس مقدمے کے علاوہ باقی تمام مقدمات میں بری قرار دے دیا گیا ہے۔