.

گروپ 7 کے لیڈروں کا روس مخالف سخت مؤقف اپنانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے سات بڑے صنعتی ملکوں پر مشتمل گروپ سات کے لیڈروں نے روس کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر زوردیا ہے جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے ان لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ یوکرین میں روس کی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

گروپ سات کا سربراہ اجلاس جرمنی کے آسٹریا کی سرحد کے نزدیک واقع ایک پہاڑی گاؤں کروئن میں منعقد ہورہا ہے۔اس اجلاس میں دسمبر میں پیرس میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ماحولیاتی کانفرنس سے قبل گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے ایشوز ،ای بولا سمیت صحت سے متعلق مختلف مسائل اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔البتہ اس کے ایجنڈے میں یوکرین کا مسئلہ اور یونان کے لیے عالمی امداد سرفہرست ہیں۔

صدر اوباما نے اجلاس سے قبل کہا کہ گروپ کے لیڈر عالمی معیشت ،تجارتی شراکت داری اور یوکرین میں روسی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سمیت متشدد انتہا پسندی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انھوں نے اور سربراہ اجلاس کی میزبان جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے باہمی بات چیت کے دوران جرمنی اور امریکا کے درمیان تعلقات کی اہمیت اجاگر کی ہے۔واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امریکا کی جرمنی میں جاسوسی کی سرگرمیوں اور خاص طور پرچانسلر کے موبائل فون کے ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے پر سرد مہری آگئی تھی۔

صدر اوباما نے جرمنوں کی شکررنجی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جرمن عوام کے لیے میرا بالکل سادہ سا پیغام ہے:ہم آپ کی دوستی اور قیادت کے شکرگزار ہیں۔ہم یورپ اور دنیا میں اٹوٹ انگ اتحادی ہیں''۔اینجیلا مرکل نے امریکا کے ساتھ اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ وہ ''ہمارا دوست'' اور ایک ''ناگزیر شراکت دار''ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹسک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گروپ سات روس پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے ایک مشترکہ موقف اختیار کرے گا۔

یورپی یونین کے لیڈروں نے مارچ میں روس کی یوکرین میں مداخلت پر عاید کردہ پابندیوں منسک میں طے پائے جنگ بندی سمجھوتے پر عمل درآمد برقرار رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔انھوں نے ان پابندیوں میں سال کے آخر تک توسیع کردی تھی لیکن ابھی انھوں نے اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اطالوی وزیراعظم میٹیو رینزی روس کے خلاف پابندیوں کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ جرمنی کے بائیں بازو کے سیاست دان بھی ان پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یورپی مبصرین نے حال ہی میں یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس کے حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔یادرہے کہ روس نے گذشتہ سال یوکرین کی ریاست کریمیا کو ایک متنازعہ ریفرینڈم کے ذریعے ضم کرلیا تھا جس کے بعد اس کی گروپ آٹھ کی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔

درایں اثناء گروپ سات کے اجلاس کے موقع پر کروئن کے نواح میں واقع شہروں اور قصبوں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ہفتے کے روز نواحی قصبے پارٹینکریچن میں گروپ سات کے مخالف ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی تھی اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھی۔ان میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے اور انھیں اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔

جرمنی نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے سترہ ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں اور دو ہزار کے لگ بھگ اہلکاروں کو آسٹریا کی سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔گروپ سات میں برطانیہ ،کینیڈا ،فرانس ،جرمنی ،اٹلی ،جاپان اور امریکا شامل ہیں۔