"صنعاء کو واگذار کرانے کے فیصلہ کن معرکے کا جلد آغاز"

یمنی فوج کے سپہ سالار کا ایرانیوں سمیت غیرملکیوں کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد علی المقدشی نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعاء کو حوثی باغیوں سے چھڑانے کے لیے فیصلہ کن معرکہ چند ایام کے اندر شروع ہونے والا ہے۔ وہ وقت اب قریب آ گیا ہے جب پورا ملک باغیوں کے چنگل سے آزاد ہو گا اور یمن کا چپہ چپہ آئینی حکومت کے کنٹرول میں ہو گا۔

سعودی عرب کے "الریاض" اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل المقدشی کا کہنا تھا کہ آئینی حکومت کی وفادار فوج اور اتحادی ملیشیا جلد ہی صنعاء میں داخل ہونے والی ہیں۔ صنعاء کو باغیوں سے چھڑانے کا فیصلہ کن معرکہ شروع ہونے کو ہے۔ جلد ہی ہم پورے یمن کو باغیوں سے چھڑالیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کےہوتے ہوئے ہمیں بری فوج کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یمن کی اپنی فوج ہی باغیوں کے لیے کافی ہے۔ اتحادی ممالک کا فضائی آپریشن ہی کافی ہے۔

جنرل احمد المقدشی نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں باغیوں کے خلاف لڑائی کے دوران ایران، شام ، عراق اور لبنان کے باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ لوگ باغیوں کی صفوں میں شامل ہوکر آئینی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی حکومت کی بحالی کے ساتھ ہی فوج کو مضبوط ادارہ بنانے، پڑوسی ملکوں کے تعاون سے فوج کی پیشہ وارانہ بنیادوں پر عسکری تربیت، تیاری اور اسلحہ فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ یمن کی مسلح افواج میں 20 ہزار تربیت یافتہ غیر فوجی جنگجو بھی باغیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں جو ہرطرح کے فوجی آپریشن میں فوج کی مدد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں