.

مکہ کرین حادثہ: بن لادن گروپ معطل، سفری پابندی عاید

بن لادن گروپ کو سعودی عرب میں مزید تعمیراتی ٹھیکے نہیں ملیں گے: شاہی دیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہی دیوان نے بن لادن گروپ کو مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں کرین گرنے کے افسوس ناک حادثے کے بعد ملک میں تعمیراتی منصوبوں کے مزید ٹھیکے نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہی دیوان نے سعودی بن لادن گروپ کے ارکان پر سفری پابندی بھی عاید کردی ہے اور ان پر یہ پابندی واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک برقرار رہے گی۔شاہی دیوان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ حادثہ کسی مجرمانہ ارادے یا نیّت کا نتیجہ نہیں تھا۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شدید آندھی اور کرین کی تنصیب سے متعلق حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کی بنا پر یہ الم ناک واقعہ پیش آیا تھا۔

شاہی دیوان نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے خاندان کو دس لاکھ سعودی ریال (قریباً 2 لاکھ 70 ہزار ڈالرز) معاوضے کے طور پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حادثے میں زخمی ہوکر زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانے والے ہر فرد کے لیے پانچ لاکھ ریال ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

شاہی دیوان نے وزارت خزانہ کو حکم دیا ہے کہ بن لادن گروپ کے تمام منصوبوں کا جائزہ لے اور تحقیقات کی تکمیل تک بن لادن خاندان کے تمام افراد پر سفری پابندی عاید کردے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو شدید آندھی کی وجہ سے تعمیراتی کام کے لیے استعمال ہونے والی ایک بڑی کرین مسجد الحرام میں اچانک گر گئی تھی۔اس ناگہانی حادثے میں ایک سو سات افراد جاں بحق اور دو سو چالیس زخمی ہوگئے تھے۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس افسوس ناک حادثے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حادثے کی تہ تک پہنچیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم اس واقعے کی وجوہ کا پتا چلانے کے لیے تحقیقات کریں گے اور اس کے نتائج عوام الناس کے سامنے لائیں گے۔انھوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔

دوسری جانب کثیرالقومی سعودی بن لادن گروپ نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ کرین کو مناسب طریقے سے نصب کیا گیا تھا اور اس کو حفاظتی تدابیر کا خیال رکھے بغیر چلایا جا رہا تھا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایک انجنئیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''کرین کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں تعمیراتی کام کے دوران چلایا جارہا تھا اور جو کچھ رونما ہوا ہے،یہ اللہ کی مرضی تھی''۔

سعودی بن لادن گروپ مکہ مکرمہ میں 27 ارب ڈالرز کی لاگت سے ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچا رہا ہے۔سعودی حکومت نے شہر میں نئے مکانات ،ایک رنگ روڈ ،پارکنگ کی جگہوں اور نئے میٹرو نظام کی تعمیر کے لیے یہ خطیر رقم مختص کی ہے۔

سعودی بن لادن گروپ بن لادن خاندان کا ملکیتی ہے۔اس گروپ کو 11ستمبر 2001ء کو امریکا پر طیارہ حملوں کے بعد عالمگیر شہرت ملی تھی کیونکہ اسی خاندان کے ایک اہم چشم وچراغ اسامہ بن لادن پر ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔تاہم بن لادن خاندان کے ارکان اس واقعے سے قبل بھی خود کو اسامہ بن لادن سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔