مسعود پزشکیان کا استعفیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کا سبب بنا: انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کو واضح کیا تھا کہ اگر ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ معاہدے پر آگے بڑھنے سے انکار کرتی ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ یہ اقدام ان شدید تقسیم اور دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جو گذشتہ سنہ 2026ء کے جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے سے قبل موجود تھے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پزشکیان نے ایک اہم اجلاس میں خامنہ ای کو آگاہ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے ۔موجودہ صورتحال ملک کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت روایتی طریقوں سے بحران کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہی۔

ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی کا ایک ہنگامی پیغام بھی قیادت کا موقف تبدیل کرنے میں اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایران کو غیر مسبوق معاشی بحران کا سامنا ہے اور اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو بنیادی غذائی اشیاء اور ادویات کا ذخیرہ سنہ 2026ء کے اگست کے آخر تک ختم ہو سکتا ہے۔ ان معاشی انتباہات اور پزشکیان کی سیاسی کوششوں نے خامنئی کو امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی مخالفت کے باوجود مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے لیے آمادہ کیا۔

مذاکرات کی سیاسی جنگ

ایرانی صدر نے گذشتہ مہینوں کے دوران ریاستی اداروں کے اندر قوت کے مراکز کو امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت پر قائل کرنے کے لیے ایک پیچیدہ سیاسی جنگ لڑی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مل کر حکومتی اداروں میں ایک ایسا اتحاد قائم کیا جو مذاکرات کو نظام کے استحکام کے لیے تزویراتی ضرورت سمجھتا ہے۔

اس گروہ نے سخت گیر حلقوں کی شدید مخالفت کے باوجود اہم فیصلے منظور کروائے جن میں جنگ بندی کا قبول کرنا اور امریکی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ممکن ہوئے۔

قدامت پسندوں میں تقسیم

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران اس وقت نظام کے اندر ایک غیر معمولی تقسیم کا شکار ہے۔ یہ تقسیم اب اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان نہیں بلکہ خود قدامت پسند کیمپ کے اندر موجود ہے۔ جہاں پزشکیان، قالیباف، عراقچی اور پاسداران انقلاب کے کچھ کمانڈروں پر مشتمل عملیت پسند گروہ سمجھتا ہے کہ نظام کے بقا کے لیے مغرب سے محاذ آرائی کم کرنا اور معیشت کو بچانا ضروری ہے، وہیں سخت گیر طبقہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے قربت کو مسترد کرتا ہے اور اسے تزویراتی پسپائی سمجھتا ہے۔

یہ کشمکش اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سخت گیروں نے مذاکراتی ٹیم پر غداری کے الزامات لگائے ہیں جبکہ عباس عراقچی کو وسیع پیمانے پر سیاسی اور میڈیا مہمات کا سامنا ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ ایران کے اندر حقیقی لڑائی اب صرف امریکہ کے ساتھ معاہدے تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگ کے بعد کے مرحلے میں نظام کے مستقبل اور طاقت کے توازن پر مرکوز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں