.

ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روس کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ نے روس کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف کو ناقابل قبول قراردیا ہے اور تنظیم کے اہم رکن ملک کو درپیش بحران پر غور کے لیے اتحادی ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

انھوں نے برسلز میں سوموار کو ترک وزیرخارجہ فریدون سنیرعلی اوغلو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ''روس کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے ہیں''۔

روس کے ایک لڑاکا طیارے نے ہفتے کے روز شام کی سرحد کے نزدیک ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی لیکن اس کو ترکی کے دو لڑاکا ایف سولہ طیاروں نے فوری طور پر گھیرے میں لے کر واپس شامی علاقے کی جانب پرواز پر مجبور کردیا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے انقرہ میں متعیّں روسی سفیر کو طلب کرکے ان سے اس خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ترک وزیرخارجہ نے بھی اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف اور نیٹو کے اتحادیوں سے اس واقعے پر بات چیت کی ہے۔

ترکی نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی کسی خلاف ورزی کے اعادے سے گریز کرے۔اگراس نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خود ذمے دار ہوگا۔

امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے میڈرڈ میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اس واقعے پر ہم ترکی سے بات چیت کررہے ہیں۔ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول روسی طیارے کی جانب سے ترکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا واقعہ حادثاتی نہیں لگتا ہے۔

درایں اثناء ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ روس نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ایک غلطی قراردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ روس کی شام میں جاری تنازعے میں مداخلت سے بحران میں شدت ہی آئے گی۔

خبرترک ٹی وی کے ساتھ براہ راست انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے گا،تو اس کے ساتھ معاملہ کاری کے لیے قواعد وضوابط بالکل واضح ہیں۔