.

یو این کی یمنی صدر کو 'جنیوا 2' اجلاس میں شرکت کی دعوت

یمنی حکومت 24 گھنٹے کے اندراقوام متحدہ کو جواب دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اقوام_متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمنی صدر عبد ربہ #منصور_ھادی کو #یمن میں سیاسی استحکام اور امن وامان کے قیام کے حوالے سے سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد 2216 اور خلیجی ممالک کے امن فارمولے پر عمل درآمد کرنے کے لیے دوسرا جنیوا اجلاس بلانے کی دعوت دی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اقدام کا مقصد جنیوا ون اجلاس کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے یمن میں قیام امن کی راہ ہموار کرنا اور تعطل کا شکار سیاسی بات چیت کو آگے بڑھانے کا ایک اور موقع فراہم کرنا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد جو اس وقت #سعودی_عرب کے دارالحکومت #ریاض میں موجود ہیں نے صدر ھادی کو بان کی مون کا یہ پیغام پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ان دنوں ابوظہبی، ریاض اور مسقط میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی میں مصروف ہیں۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے اقوام متحدہ کی جانب سے "جنیوا 2" اجلاس منعقد کرنے کی دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ کی تجویز کا 48 گھنٹے میں جواب دے گی۔

جمعہ کی شام اقوام متحدہ کے امن مندوب نے ریاض میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ یمن میں جاری خون خرابہ، قتل عام اور بربادی روکنے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت اپنے کسی ایک چپے سے بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ حکومت ہی صعدہ سے المھرہ تک کی ذمہ دار اور جواب دہ ہے اور ہم پورے ملک میں امن واستحکام کے لیے مساعی کررہے ہیں۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں کی جانب سے عدن میں حکومتی مراکز میں کیے گئے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ قرار دیا۔

ادھر یمن میں امن وامان کے حوالے سےقائم کردہ سیاسی کمیٹی کے سربراہ اور وزیرمملکت عبداللہ الصیادی نے بھی اقوام متحدہ کے امن مندوب سے ملاقات کی۔ سیاسی کمیٹی میں صدر ھادی، وزیر اعظم بحاح اور ان کی کابینہ کے متعدد وزیر بھی شامل ہیں تاہم کمیٹی کی قیادت ایک وزیر کے پاس ہے۔

سیاسی کمیٹی نے بھی ملک میں مزید بدامنی جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا قتل عام اور خون خرابے کی ذمہ دار ہے۔ باغی مذاکرات کے حوالے سے اپنی مرضی کی شرائط عاید کرکے سیاسی مساعی کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔