.

مصر۔ فرانس مصنوعی سیاروں کی ڈیل پر اسرائیل پریشان

’صہیونی ریاست پڑوسی عرب ملکوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے فرانس سے دو مصنوعی سیاروں کی خریداری کے سلسلے میں مذاکرات کیے ہیں۔ مگر اسرائیل کو دونوں ملکوں کے درمیان یہ ڈیل ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو پارہی ہے۔

قاہرہ پیرس سے ایک مصنوعی سیارہ مانیٹرنگ کے لیے جب کہ دوسرا فوجی رابطہ کاری کے مقاصد کے لیے خرید کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل نے مصر اور فرانس کے درمیان مصنوعی سیاروں کی خریداری کے سلسلے میں ہونےوالے مذاکرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وسط دسمبر کومصر کے وزیر برائے دفاعی پیداوار میجر جنرل محمد سعید العصار نے فرانس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فرانسیسی حکومت سے دو مصنوعی سیاروں کے حوالے سے مذاکرات کیے ۔ یہ مذاکرات کامیاب رہے اور فرانس نے مصر کو دو مصنوعی سیارے فروخت کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی ریڈیو نے مصر اور فرانس کے درمیان مصنوعی سیاروں کی خریداری کے سلسلے میں ہونے والی ڈیل اور اس پر اسرائیل کی تشویش پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصر مصنوعی سیاروں کے ذریعے تمام شعبوں میں ’’فالو اپ ورک‘‘ کر نے کا خواہاں ہے۔ مصر اپنے بحری تحفظ بالخصوص ایتھوپیا کے بڑھتے اثرات کے تناظر میں مصنوعی سیارے خرید کربحری تحفظ کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے۔ سیاروں کی خریداری کے محرکات میں ایتھوپیا اہم ترین محرک ہے۔

اسرائیلی ریڈٰیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں [فرانس اور مصر] کےدرمیان مصنوعی سیاروں کی ڈیل رواں سال کے آخری چند ایام میں یا 2016ء کے اوائل میں طے پانے کی توقع ہے۔ دونوں مصنوعی سیاروں پر مصر ایک عرب یورو کی رقم خرچ کرے گا۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق مصرایک مصنوعی سیارہ خود بھی تیار کرنا چاہتا ہے۔’’ایجیب سیٹ 3 ‘‘ کے نام سےیہ سیٹلائیٹ چین کی مدد سے تیاری کے مراحل میں ہے جسے سنہ 2017ء تک خلاء میں چھوڑا جاسکتا ہے۔ اس مصنوعی سیارے میں 60 فی صد آلات اور سامان دیسی ساختہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مصری حکومت سنہ 2020ء تک پہلا دیسی ساختہ مصنوعی سیاروں کا راڈار فضاء میں چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے بعد قاہرہ بھی فضاء میں اپنے دیسی ساختہ راڈاروں اور مصنوعی سیاروں کے گروپ میں شامل ہوجائے گا۔

مصر کی ملٹری ڈیفنس کےانٹیلی جنس شعبے کے سابق سربراہ میجر جنرل نصر سالم نے ’’العربیہ ڈٓٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے مصنوعی سیاروں کی حصول پراسرائیلی تحفظات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بعض تحفظات کا تعلق عسکری اور بعض کا سیاسی امور سے ہے۔ چونکہ یہ مصنوعی سیارے نہایت اہمیت کی حامل انٹیلی جنس جنس معلومات اور حساس نوعیت کی تصاویر حاصل کریں گے۔ مصری فوج ان سیاروں کی مدد سے ایسی دقیق انٹیلی جنس معلومات بھی حاصل کرسکے گی جو اب تک ممکن نہیں ہوسکی ہیں۔ اسرائیل کو اس بات کی تشویش لاحق ہے کہ یہ مصنوعی سیارے صہیونی ریاست کے اہم فوجی راز چوری کرکے مصری فوج کو اس کےبارے میں اہم معلومات مہیا کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل کے پاس بھی اس نوعیت کے مصنوعی سیارے اور سیٹلائیٹس پہلے سے موجود ہیں مگر مصر نے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا ہے۔ اب اسرائیل کو یہ پریشانی لاحق ہوئی ہے کہ مصر کے مصنوعی سیارے اسرائیلی فوج کے تمام راز مصر کے سامنے بے نقاب کرسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مصری دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ فرانس سے حاصل ہونے والے سیٹلائٹس سرحدوں کی نگرانی، سرحدوں پر بنائی گئی سرنگوں کی نشاندہی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں اہم معلومات اور تصاویرفراہم کریں گے۔

سیاسی پہلو سے اسرائیل کا اعتراض دفاعی اعتراضات سے بھی زیادہ رقیق اور بھونڈا ہے۔ اسرائیل اپنے پڑوسی عرب ممالک کو سیاسی اور دفاعی میدان میں کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔ تل ابیب کی خواہش یہ ہے کہ کوئی پڑوسی ملک دفاعی اور اقتصادی میدان میں اس سے آگے نکلنا تو کجا اور اس کی برابری بھی نہ کرسکے۔ مصر اس وقت دفاعی اعتبار سے کئی ملکوں کو لیڈ کررہا ہے اور اسرائیل کو قاہرہ کی یہ صلاحیت گوارا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مصر اور فرانس کے درمیان سیٹلائٹس کے حوالے سے ہونے والی ڈیل پراپنے تحفظات کا اظہار کررہاہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کسی بھی ملک کو اپنے مفادات کے تحفظ اور دفاعی و اقتصادی ترقی کے لیے مصنوعی سیاروں کے استعمال کی ممانعت نہیں کرتا ہے۔ چونکہ اسرائیل مصر کو اپنی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی جانب سے قاہرہ اورپیرس کے درمیان ہونے والی ڈیل کی مخالفت کی جا رہی ہے۔