تُرکی سے ناراضی، اسرائیل نے یونان اور قبرص کو ساتھ ملا لیا

انقرہ ۔ ماسکو کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی صہیونی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیل اور ترکی کے درمیان پچھلے کچھ برسوں سے جاری کشیدگی اور تعلقات کے قیام میں دو طرفہ سرد مہری کے ساتھ جاری سرد جنگ کے جلو میں تل ابیب نے یونان اور قبرص جیسے ترکی مخالف گروپ میں شامل ملکوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یونان اور قبرص جیسے ملکوں سے اسرائیل کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ ایک تفصیل طلب سوال ہے مگر مختصر یہ کہ صہیونی ریاست ترکی کی موجودہ پالیسی کا انتقام لینے کے لیے قبرص اور یونان اور پھر مصر سے دوستی مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان دنوں یونانی اور قبرصی قیادت کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ راز و نیاز میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بدھ کو بیت المقدس میں یونانی وزیر اعظم نے اپنی نصف کابینہ کے ہمراہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ طویل ملاقات کے بعد وزیراعظم نیتن یاھو قبرصی صدر سے ملنے یونانی وزیراعظم کے ہمراہ ایک ہی طیارے میں قبرص روانہ ہوئے۔

یونان اور قبرص کی ایک ساتھ اسرائیل کی قربت طویل عرصے کی جدو جہد کا نتیجہ بتائی جاتی ہے۔ حالات حاضرہ میں اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص یونان، قبرص اور مصر کا فوجی، اقتصادی اور تزویراتی حلیف ثابت ہونا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی ریاست مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ باہمی فوجی اور اقتصادی تعاون کے سمجھوتوں میں مصروف عمل ہے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کی صہیونی دلچسپی میں اس وقت اور اضافہ ہو گیا تھا جب بحر متوسط میں قدرتی گیس کے بے پناہ وسائل سامنے آنے کے بعد اس کے حصول کے لیے مشترکہ تعاون کے معاہدے ہونے لگے تھے۔

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا نیا اتحاد سنہ 2010ء میں ترکی کے ساتھ تعلقات بگڑنے سے شروع ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اپنے بیانات میں جب بھی علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بات کرتے ہیں تو وہ ترکی کے ساتھ کشیدگی کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔ اپنے ایک تازہ بیان میں بھی نیتن یاھو نے کہا کہ ہم ترکی سے خوش گوار تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں مگر اپنے دفاع اور مفادات کا سودا نہیں کر سکتے۔ ماضی میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان بہترین تعلقات قائم رہے ہیں۔ اس وقت اگر دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ ترکی خود ہے۔ ہم صرف اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہیں۔ اگر ترکی اپنی پالیسی میں تبدیلی کر رہا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم یونان اور قبرص کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ ان دونوں ملکوں سے تعلق بھی تل ابیب کے مفاد کا حصہ ہے۔

اسرائیل کی قبرص اور یونان کی قربت دراصل ترکی کی ان دونوں ملکوں کے ساتھ طویل عرصے پر پھیلی ناراضی کا بھی نتیجہ ہے۔ اگر یہ دونوں ملک ترکی کے حلیف ہوتے تو شاید اسرائیل ان سے گہرے مراسم قائم کرنے میں زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کرتا۔ حال ہی میں جب اسرائیل اور ترکی کے درمیان بحران ختم کرنے کا ایک معاہدہ ہونے لگا تب بھی صہیونی ریاست نے واضح کر دیا تھا کہ وہ قبرص اور یونان سے تعلقات پر نظرثانی کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ گوکہ ترکی جانب سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ اٹھائے جانے اور مرمرہ جہاز پر اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے امدادی کارکنوں کے ورثاء کو معاوضہ ادا کرنے کے اصرار نے دونوں ملکوں میں معاہدے کو حتمی شکل تک نہ پہنچنے دیا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون نے اپنے یونانی ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ ترکی طویل عرصے تک داعش سے تیل خرید کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انقرہ نے یورپ اور شام کے درمیان جنگجوؤں کی آمد و رفت کی سہولت مہیا کی۔ گوکہ اس نوعیت کے الزامات سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ اسرائیل اس وقت ترکی کے خلاف اس لیے بھی تندو تیز لہجے میں بات کرتا ہے کہ ترکی اور روس کےدرمیان بھی ایک بحران چل رہا ہے۔ اس بحران نے ترکی کو اقتصادی اور سیاسی میدان میں کافی نقصان بھی پہنچایا ہے۔

ترکی کے ساتھ کشیدگی کا خلاء پُر کرنے کے لیے اسرائیل نے یونان اور قبرص جیسے ملکوں کا سہارا لیا اور ان دونوں ملکوں کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور فوجی میدانوں میں دھڑا دھڑ معاہدے ہونے لگے ہیں۔ ترکی ان دونوں ملکوں کے ساتھ فضائی اور نیول فورسز کی جنگی مشقیں بھی کر رہا ہے۔ پچھلے تین سال میں اسرائیلی فضائیہ کو یونان کے جزیرہ کریٹ میں نصب روس کے S – 300 طیارہ شکن میزائلوں کا توڑ کرنے کی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

قبرص نے اپنا ایک فوجی اڈہ اور ایک بندرگاہ بھی اسرائیل کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت فراہم کی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد بحر متوسط میں موجود گیس کے ذخائر کے تحفظ میں اسرائیل کی مدد کرنا اور مستقبل میں گیس کو قبرص اور مصر سے یورپ تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بحر متوسط کی گیس کو یورپ تک لے جانے کے لیے پہلا منصوبہ ترکی کے ساتھ طے پایا تھا تاہم انقرہ سے ناراضی کے بعد اس کی شکل تبدیل کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں