.

دوران پرواز صومالی مسافر اچھل کر طیارے سے باہر

اڑان کے بعد طیارے میں دھماکے سے شگاف پڑ گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ہفتے صومالیہ کا ایک شہری نادر انداز سے موت کے منہ میں چلا گیا۔ مذکورہ شہری منگل کے روز جیبوتی کی فضائی کمپنی Daallo کے طیارے میں سوار 74 افراد میں سے ایک تھا۔

صومالیہ سے جیبوتی جانے والے طیارے میں اڑان کے 20 منٹ بعد ہی ایک زور دار دھماکا ہوا جس سے اس کے ڈھانچے میں ایک شگاف پڑ گیا اور جہاز کے اندر کا توازن بگڑ گیا۔ اسی دوران ہوا کے شدید بہاؤ نے شگاف کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے بدقسمت مسافر کو سوراخ کے (شگاف) راستے طیارے کے باہر اچھال دیا۔ بعد ازاں موگادیشو کے ایئرپورٹ سے 30 کلومیٹر دور بلد نامی علاقے میں صومالی مسافر کی لاش کے چیتھڑے مل گئے، جب کہ طیارے نے واپس آ کر اسی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کر لی جہاں سے اس نے اڑان بھری تھی۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے طیارے کے 64 سالہ کپتان ولادیمر وودوپیوک نے بدھ کے روز دارالحکومت بلغراد کے ایک اخبار Blic سے حادثے کے متعلق ٹیلفونک گفتگو کی۔ کپتان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کا حادثہ نہیں دیکھا، انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دھماکا بم کے ذریعے ہوا... "جس کے ساتھ ہی ہم نے کاک پٹ کا توازن بھی کھو دیا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ میں طیارے کے ساتھ واپس لوٹ آیا"۔ اخبار نے خصوصی طور پر طیارے کے کپتان کی تصویر بھی شائع کی ہے۔

دھواں بھر جانے سے چند سیکنڈ تک کچھ بھی نظر نہیں آیا.

"بلد" کے علاقے میں مقیم افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک مسافر کو فضا سے زمین پر گرتے ہوئے دیکھا جس کی لاش کے ٹکڑے جلے ہوئے تھے۔

دھماکا طیارے کی کھڑکی کے نیچے ہوا تھا اور مرنے والے مسافر کی نشست اس کے قریب ہی تھی۔ خبر رساں ایجنسیوں نے دو امریکی سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تحقیق کاروں کا غالب گمان یہ ہے کہ دھماکا طیارے میں رکھے گئے بم کے نتیجے میں ہوا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ " اس حوالے سے کوئی ناقابل تردید شواہد سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے"۔

ادھر صومالیہ میں ہوابازی کے سربراہ عبدالواحد عمر نے سرکاری ریڈیو کی ویب سائٹ پر ایک 55 سالہ مسافر کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے اس کا نام نہیں بتایا۔ عبدالواحد کے مطابق حادثے میں دو مسافر زخمی بھی ہوئے۔

طیارے میں اقوام متحدہ میں صومالیہ کے نائب سفیر Awale Kullane بھی سوار تھے۔ انہوں نے دھماکے کے بعد اپنے موبائل فون کے ذریعے طیارے کے اندر کی وڈیو بنا لی۔ یوٹیوب پر ہزاروں افراد کی جانب سے دیکھی جانے والی اس وڈیو کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد طیارہ فضا میں معلق ہے اور ساتھ ہی وہ سوراخ (شگاف) بھی نظر آ رہا ہے جس کے راستے موت کے منہ میں جانے والا مسافر طیارے کے باہر گرا تھا۔

نائب سفیر Awale Kullane کا کہنا ہے کہ " میں نے ایک بڑے دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد دھواں پھیل گیا اور چند سیکنڈ تک ہم کچھ بھی دیکھنے سے قاصر رہے ... یہ زندگی کا ایک خوفناک تجربہ تھا"۔