شام کے لیے چین کے خصوصی ایلچی کا تقرر
چین مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں
چین نے شام کے لیے اپنے ایک تجربے کار سفارت کار کا خصوصی ایلچی کے طور پر تقرر کیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب مشرق وسطیٰ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لئی نے منگل کے روز بیجنگ میں معمول کی نیوزبریفنگ میں بتایا ہے کہ شی ژیاؤ یان کو شام کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا ہے۔وہ اس ذمے داری سے قبل ایتھوپیا اور افریقی یونین میں چین کے سفیر تھے۔
انھوں نے کہا کہ ''چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے ہمیشہ شامی تنازعے کے مناسب حل کے لیے فعال رہا ہے اور سیاسی حل کے ذریعے ہی اس بحران کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے''۔
ترجمان ہانگ نے کہا کہ ''چین شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہےاور اس نے خطے کو انسانی امداد مہیا کی ہے''۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے اپنے خصوصی ایلچی کے تقرر سے شام میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ تنازعے کے حل کے لیے چینی تجاویز کو بھی بہتر انداز میں پیش کیا جاسکے گا۔انھوں نے بتایا کہ''62 سالہ شئی بہت تجربے کار سفارت کار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ سے بخوبی آگاہ ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ وہ اس مشن کو پورا کریں گے''۔
چین خلیجی عرب ممالک سے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔وہ انفرادی سطح پر اب تک مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے کوئی زیادہ فعال کردار ادا نہیں کرتا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہی فعال رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے مغربی ممالک کی طرح مشرق وسطیٰ میں براہ راست سفارتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس نے حال ہی میں شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم اور حزب اختلاف کی بعض شخصیات کی بیجنگ میں الگ الگ میزبانی کی ہے اور چینی حکام نے ان سے بحران کے خاتمے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل رکن ممالک امریکا ،برطانیہ ،فرانس اور روس مشرق وسطیٰ میں فعال ہیں اور وہی خطے کی ممالک کی قسمت کے فیصلے کررہے ہیں۔اس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت امریکا اور روس کے درمیان سمجھوتے کے نتیجے میں شام میں حزب اختلاف اور اسد حکومت کے درمیان جنگ بندی جاری ہے اور اس پر جزوی طور پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔تاہم اس کا داعش اور شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ پر اطلاق نہیں ہوتا ہے۔