ہالینڈ کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ہالینڈ کی حکومت غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ تجارت اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدگی روکے۔
انسانی حقوق پر یقین رکھنے والی اور اس کے لیے کوششیں کرنے والی 10 تنظیموں کے گروپ کا نیدرلینڈ کی حکومت پر الزام ہے کہ یہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے عملاً کچھ نہیں کر رہی اور اس کی اسرائیل کے لیے خارجہ پالیسی غزہ کی صورتحال میں مکمل غیر قانونی ہے۔
ان تنظیموں نے جج پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت اور اسلحہ کی فراہمی پر جامع پابندی عائد کرے۔ نیز اسرائیل کو فوجی کتے بھجوانے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاملات کو روک دے۔
عدالت نے اس موقع پر یہ باور کرایا کہ نیدرلینڈ کی حکومت پہلے ہی اس معاملے میں کافی کچھ کر چکی ہے۔ عدالت کے مطابق حکومت اسرائیل کے لیے فوجی استعمال کی اشیاء بھجوانے کے لیے لائسنسوں کے اجراء پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ کیونکہ خدشہ تھا کہ یہ فوجی استعمال کی اشیاء غزہ میں استعمال ہوں گی۔
سماعت کے دوران حکومتی وکلاء نے اس الزام کو مسترد کیا کہ اسرائیل کے لیے خارجہ پالیسی غیر قانونی ہے اور حکومت کی پہلے ہی یہ حکمت عملی ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے برآمدات کے ہر معاملے کو الگ سے دیکھتی ہے۔
ہیگ میں قائم اس عدالت نے اس اپیل کے بارے میں فیصلہ 8 اکتوبر کو سنانا تھا۔ تاہم عدالت کے جج نے اس فیصلے کو اس وقت تک التوا میں رکھنے کا طے کیا جب تک اسی طرح کے ایک اور کیس پر سپریم کورٹ فیصلہ سامنے نہ آجائے۔
یاد رہے نیدرلینڈ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ اس نے اسرائیل کو ایف 35 طیاروں کے پرزے برآمد کرنے ہیں یا نہیں۔
تاہم حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بھی یہ طے کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس طرح کے پرزے بھیجنے پر اپنی پہلے سے عائد کردہ پابندی کو برقرار رکھے گی۔