"نفرت کی دعوت دینے والے" تقریبا 80 افراد کو نکال دیا : فرانسیسی صدر
فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے نفرت کا پرچار کرنے والی تقریبا 80 شخصیات کو فرانس کی سرزمین سے بے دخل کردیا ہے۔ اولاند نے یہ بات ایک فرانسیسی نوجوان کی ماں کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی جس کا بیٹا دہشت گردوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد شام میں مارا گیا تھا۔
فرانسوا اولاند نے "فرانس-2" چینل پر براہ راست گفتگو میں کہا کہ "ہم نفرت پھیلانوں والوں میں سے تقریبا 80 افراد کو ملک سے نکال چکے ہیں"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ان کی حکومت فرانسیسی نوجوانوں کے انتہاپسند سوچ کو اپنانے اور شام اور عراق میں داعش تنظیم سے منسلک ہونے کو روک لگا رہی ہے۔
فرانس کے صدر نے واضح کیا کہ تقریبا 170 فرانسیسی نوجوان شام اور عراق میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "آج تقریبا دو ہزار یا اس سے کچھ کم نوجوان شدت پسندی کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
اولاند کے مطابق "شام اور عراق میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو انتہاپسندی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور وہ حملوں کی غرض سے فرانس واپس لوٹ سکتے ہیں، ایسے فرانسیسیوں کی تعداد کا اندازہ 600 کے قریب لگایا گیا ہے۔
اولاند نے زور دے کر کہا کہ "ہم پر لازم ہے کہ نفرت کی دعوت دینے والے ان شخصیات کی راہ میں کھڑے ہوجائیں جو شدت پسندی کا سبب بن رہے ہیں۔ شدت پسند بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے"۔
-
داعش تنظیم ملک میں حملے کرنا چاہتی ہے: جرمنی
جرمنی میں داخلہ انٹیلجنس ایجنسی (بی ایف وی) کے سربراہ ہینز- جارج ماسن کا کہنا ہے ...
بين الاقوامى -
اٹلی کے انجینئر داعش کے خلاف منفرد انداز سے برسر جنگ!
اٹلی کے انجینئروں نے داعش تنظیم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ اس ...
بين الاقوامى -
لیبیا : داعش کے حملوں کا اندیشہ.. 3 آئل فیلڈز خالی !
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں نیشنل آئل کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم کی ...
مشرق وسطی