.

امریکی خاندان کا بشار الاسد پر 90 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

داعش کے ہاتھوں قتل کیے گئے سوٹلوف کے اہل خانہ عدالت جا پہنچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں سنہ 2014ء کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’#داعش‘ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل کیے گئے امریکی شہری اسٹیفن سوٹلوف کے خاندان نے اس واقعے کا ذمہ دار شامی صدر #بشار_الاسد کو ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں 90 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حال ہی میں واشنگٹن کی ایک عدالت میں داعش کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سوٹلوف کے والدین اور ہمشیرہ درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوٹلوف کے قتل کا اصل مجرم شامی صدر بشار الاسد ہے۔ عدالت اس گھناؤنے قتل پر صدر بشارالاسد سے 90 ملین ڈالر کی رقم بہ طور ہرجانہ وصول کرتے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اگرعدالت کی جانب سے مدعی خاندان کے حق میں فیصلہ سنایا جاتا ہے تو یہ رقم شامی صدر سے کیسے لی جاسکے گی۔

خیال رہے ک سوٹلوف نامی امریکی اگست سنہ 2013ء کو ترکی کے راستے شمالی شام کے #حلب شہر میں پہنچا جہاں ستمبر 2013ء کو اسے داعش کے دہشت گردوں نے یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں داعش نے انٹرنیٹ پر ایک فوٹیج پوسٹ کی تھی جس میں امریکی شہری کو قتل کرتے دکھایا گیا تھا۔ سوٹلوف کے قتل سے چند ہفتے قبل داعش نے یرغمال بنائے گئے امریکی صحافی جیمز فولی کو بھی ذبح کردیا تھا۔

واشنگٹن کی عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی حکومت نے ملک میں خانہ جنگی کے لیے داعش کے قیام کی راہ ہموار کی تاکہ وہ استعفے کا مطالبہ کرنے والی بڑی مغربی طاقتوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرسکیں۔ یوں اسٹیفن سوٹلوف کو یرغمال بنانے میں شامی حکومت کا ہاتھ ہے جس نے دہشت گردوں کی مادی، فوجی اور مالی مدد کی۔

درخواست میں ان امریکی اور برطانیہ حکام کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ داعش اور شامی فوج کےدرمیان دو طرفہ تعاون جاری ہے۔ بشارالاسد کی حکومت داعش سے تیل خرید کررہی ہے اور اس کے بدلے میں دہشت گردوں کو مالی معاونت مہیا کی جا رہی ہے۔