برازیل : ڈیلما روسیف فارغ.. لبنانی نژاد میشیل تامر صدر بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برازیل میں نیشنل کانگریس (پارلیمنٹ) نے ملک کی خاتون صدر ڈیلما روسیف کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز خصوصی اجلاس میں 81 میں سے 78 ارکان نے شرکت کی اور ووٹنگ کے دوران ڈیلما کو سبک دوش کیے جانے کے لیے مطلوبہ اکثریت (کم از کم 41 ووٹ) حاصل کر لی گئی۔ "العربيہ ڈاٹ نیٹ" نے برازیلی کانگریس میں اجلاس کی براہ راست نشریات سے تفصیلات حاصل کیں۔ ڈیلما روسیف کو منصب سے علاحدہ کرنے کے لیے مطلوب اکثریت کے حصول کے بعد ڈیلما کے لبنانی نژاد نائب میشیل تامر قائم مقام صدر بن گئے ہیں۔

میشیل تامر نے تقریبا 75 برس قبل برازیل کی ریاست ساؤ پاؤلو کے ایک شہر میں آنکھ کھولی۔ جمعرات کے روز انہوں نے رقبے کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک (85 لاکھ 15 ہزار مربع کلومیٹر) کے اعلیٰ ترین منصب کو سنبھال لیا ہے جو میشیل کے آبائی وطن لبنان سے رقبے میں 814 گنا بڑا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھی برازیل دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ اس کی مجموعی آبادی 20 کروڑ 60 لاکھ ہے جس میں تقریبا 60 لاکھ (اصلا اور مقیم) لبنانی ہیں۔

برازیل کی پہلی خاتون صدر ڈیلما روسیف کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور مختلف نوعیت کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزام کے سبب اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔ وہ "فرنانڈو کولور ڈی ملو" کے بعد دوسری شخصیت ہیں جن کو صدارت کے منصب سے معزول کیا گیا۔ فرنانڈو کو 21 ماہ تک صدارت کے عہدے کے مزے لوٹنے کے بعد 1992 میں منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔

بلغارین نژاد سابق صدر ڈیلما روسیف کے خلاف عدالتی کارروائی 6 ماہ تک جاری رہے گی۔ "العربيہ ڈاٹ نیٹ" کو برازیل کے اہم اخبارات کی ویب سائٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ تامر دسمبر 2018 تک برازیل کے صدر رہیں گے، جس کے بعد جنوبی امریکا کے اس سب سے بڑے ملک میں صدارتی انتخابات کا وقت آجائے گا جس کی آبادی لبنان کی آبادی سے 40 گنا زیادہ ہے۔ تامر کے خاندان کے زیادہ تر افراد لبنان کے گاؤں "بتعبورہ" میں پیدا ہوئے۔

تامر دو مرتبہ اپنے آبائی گاؤں کا دورہ کرچکے ہیں اور پہلی مرتبہ اپنے گاؤں کے گھر میں داخل ہوتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے تھے۔ تامر کے والد اور سات میں سے 3 بھائی اسی گھر میں پیدا ہوئے جب کہ بقیہ تمام بھائی جن میں تامر سب سے چھوٹے ہیں سب برازیل میں پیدا ہوئے۔

جمعرات کے روز ڈیلما روسیف کی معزولی کے بعد صدارت کا منصب سنبھالنے والے تامر نے 22 وزراء پر مشتمل حکومت تشکیل دی ہے۔ ڈیلما روسیف جمعرات کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے ایک وڈیو خطاب بھی جاری کریں گی۔

ڈیلما روسیف 2010 میں پہلی مرتبہ برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھیں اور پھر 2014 میں دوسری مدت کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔ تاہم مبینہ بدعنوانی میں ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد روسیف کو اپنے عہدے سے علاحدگی اختیار کرنا پڑی۔ جمعرات کے روز تاریخی اجلاس میں ڈیلما کے خلاف ووٹنگ کے بعد میشیل تامر مکمل اختیارات کے ساتھ ملک کے قائم مقام صدر بن چکے ہیں۔

ڈیلما روسیف کی سبک دوشی کی راہ ہموار کرنے میں یہ امر بھی معاون ثابت ہوا کہ برازیل کو جو دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہے ڈیلما روسیف کے منتخب ہونے کے بعد سے ایک بڑے اقتصادی جمود کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس اس کی عمومی پیداوار میں 3.8% کی کمی واقع ہوئی اور رواں سال بھی تقریبا اتنی ہی کمی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے عام قرضوں، خسارے، بے روزگاری اور مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ اس کے سبب روسیف کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا اور عوام کو ان کی سبک دوشی کے سوا کوئی حل نظر نہیں آیا۔

جہاں تک نئے صدر میشیل تامر کا تعلق ہے تو وہ پانچ بچوں کے والد ہیں۔ دوسری مرتبہ لبنان کے دورے میں تامر کے ساتھ ان کی حالیہ بیوی تھیں جو کہ سابقہ ملکہ حسن بھی رہ چکی ہیں اور عمر میں ان سے 43 برس چھوٹی ہیں۔ اس دورے میں لبنانی صدر میشیل سلیمان نے تامر کو لبنانی شہریت سے نوازا تھا۔ بہرکیف میشیل تامر برازیل کے صدر بن گئے ہیں جب کہ لبنان میں میشیل سلیمان کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد سے نئے صدر کا انتخاب عمل میں نہیں آسکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں