.

"اورلینڈو حملہ آور" کی فلسطینی بیوی کو ممکنہ گرفتاری کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر "اورلینڈو" میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والے افغان نژاد امریکی حملہ آور کی بیوی منظرعام سے روپوش ہو گئی ہے۔ عمر متین کی بیوی کا نام نور زاہی سلمان ہے۔ نور فلسطینی ہے اور اس کا ایک بیٹا بھی ہے جس کی عمر 3 برس سے کم ہے۔ نور کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اسے عمر متین کے حملے کے منصوبے کا پہلے سے علم تھا اور اس نے حکام کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔

نئی معلومات کے مطابق عمر متین نہ تو دہشت گرد تھا اور نہ ہی کوئی شدت پسند "داعشی"، بلکہ وہ افسردہ کُن جنونیت کا شکار تھا جس سے ذہنی پاگل پن پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک عمر کی بیوی کا تعلق ہے تو وہ منگل کے روز پہلی منظر عام پر آئی۔ اس نے اپنا چہرہ مقامی چینلوں کے کیمروں سے چھپایا ہوا تھا اور فوری طور پر کوچ کرگئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ جمعے کے روز "قتل و غارت گری" کے لیے ہتھیار خریدتے ہوئے نور اپنے شوہر کے ساتھ تھی۔ عمر نے AR-15 خود کار رائفل اور آٹومیٹک کولٹ پسٹل 38 کی خریداری کی تھی۔

واقعے کے بعد ضروریات کی چیزیں سمیٹ کر نامعلوم سمت روانہ

امریکی نیوز ویب سائٹ The Daily Beast کے مطابق نور زاہی سلمان کا تعلق غزہ سے ہے۔ عمر کے پڑوسی نے بتایا تھا کہ اس کی بیوی بھی افغان نژاد ہے تاہم لگتا یہ ہے کہ عمر کے خود افغان ہونے کے سبب یا پھر نور کے اردو بولنے کی وجہ سے اس کے پڑوسی کو یہ غلط فہمی ہوئی۔

نور زاہی کی ایک ہی تصویر ہے جس میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ نظر آ رہی ہے اور دونوں کے درمیان ان کا ننھا بیٹا ہے۔ نور نے امریکیFBI کے تحقیق کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ اسلحے کی خریداری کے وقت عمر کے ساتھ تھی اور اسی نے عمر کو گاڑی کے ذریعے نائٹ کلب پہنچایا تھا تاکہ وہ اجتماعی قتل کے ارتکاب سے پہلے وہاں کا جائزہ لے سکے۔ امریکی میڈیا کے مطابق عمر متین Pulse کلب کے گاہکوں میں سے تھا۔ وہ 10 مرتبہ سے زیادہ وہاں جا چکا تھا اسی لیے اب امریکا میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ہم جنس پرست تھا۔

نور 2013 میں عمر متین سے شادی کے بعد سے اُس کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی۔ نائٹ کلب کے واقعے کے بعد اوہ اپنی چیزیں سمیٹ کر وہاں سے کوچ کر گئی۔ نور نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک سے اپنے اکاؤنٹس کو ختم کر دیا۔ اپارٹمنٹ سے روانگی کے وقت اُس نے اپنا چہرہ چھپانے کے لیے حجاب لیا ہوا تھا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر پیش کی گئی وڈیو میں وہ سر ڈاھانپے ہوئے خاموش نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد وہ نامعلوم سمت روانہ ہوگئی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ اس کے سُسر کا گھر ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ The Daily Beast کے مطابق عمر متین کے ساتھ اپنی ازدوانی زندگی میں وہ اپنے سر پر حجاب نہیں لیتی تھی جس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ عمر اپنی زندگی کے آخری روز تک کوئی مذہبی انتہاپسند یا داعشی نہیں تھا۔ تاہم عمر نے حملے سے قبل پولیس سے رابطہ کر کے یہ بتایا کہ اس نے داعش کی بیعت کرلی ہے جب کہ ایک مسجد کے امام نے عمر کے بارے میں بتایا کہ وہForte Piece شہر میں اس مسجد میں باقاعدگی سے آتا تھا۔

کیا پولیس سے اس لیے رابطہ کیا تاکہ خودکشی کے بدلے اسے قتل کیا جائے ؟

تاہم Sitora Yusufiy نامی ازبک نژاد امریکی خاتون جس سے عمر متین نے 2011 میں شادی کی اور چار ماہ بعد ان میں طلاق ہو گئی تھی، اس کی گواہی بھی ان معلومات کی تصدیق کرتی ہے کہ عمر شدت پسندی سے دور تھا۔ البتہ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں سیٹورا نے یہ ضرور بتایا کہ وہ ذہنی طور پر نارمل انسان نہیں تھا۔

سیٹورا کے مطابق عمر متینBipolar Disorder کا شکار تھا یعنی وہ کسی گھڑی مایوس اور رنجیدہ ہوتا تھا اور کسی وقت انتہائی مسرور اور ہشاش بشاش۔ اگر وہ خود کشی سے بچنے کے لیے پولیس اہل کاروں کو اپنے قتل کے لیے بلانا نہیں چاہتا تھا تو پھر اُس نے اجتماعی قتل کے وقت پولیس سے رابطہ کیوں کیا؟ یہ سوال امریکی میڈیا میں زیر گردش ہے جوعمر کے بارودی بیلٹ استعمال نہ کرنے پر اور کارروائی کے بعد کلب سے فرار ہو کر اپنی جان نہ بچانے پر بھی حیران ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹThe Mercury News کی رپورٹ کے مطابق 30 سالہ نور زاہی سلمان اپنے شوہر عمر متین سے ایک سال بڑی تھی۔ عمر متین کے افغان والدین نیویارک میں مقیم تھے۔ نور زاہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ کیلیفورنیا کے شہرRodeo میں 10 سال مقیم رہی۔ اس کی 3 بہنیں ہیں جن میں " اقبال " نامی ایک بہن ابھی تک گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ سکونت پذیر ہے۔ جہاں تک نور کے والد عبداللہ سلمان کا تعلق ہے تو وہ چند سال پہلے فوت ہو چکے ہیں۔

انگریزی زبان میں نور زاہی سلمان کے متعلق دستیاب معلومات کچھ مختلف ہیں۔ ان کے مطابق نور 30 سال پہلے سان فرانسسکو میں پیدا ہوئی۔ نور کے بلاگThe Last Refuge کے مطابق وہ بھی اپنے شوہر کی طرح شادی شدہ تھی۔ 2009 میں اس نے اپنے شوہر احمد ابو رحمہ سے طلاق لے لی تھی جس کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عرب تھا۔ ادھر "این بی سی نیوز" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "زاہی" درحقیقت نور کی والدہ کا خاندانی نام ہے جب کہ اُس کے والد بسام عبداللہ سلمان چند سال قبل دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گئے۔