’ایران بدستور بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل‘

انسداد منی لانڈرنگ گروپ نے تہران کوخطرناک ملک قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

منی لانڈرنگ کی عالمی سطح پر روک تھام کے لیے سرگرم ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے معاہدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود تہران سرکار اب بھی دہشت گردوں کی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم میں ملوث ہے جس کے باعث ایران کو ابھی تک بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق انسداد بدعنوانی عالمی گروپ کے پیرس میں قائم صدر دفتر سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی گروپ کی جانب سے گذشتہ 12 مہینوں میں بعض قانونی کارروائیوں کو منسوخ کیاہے مگر اس کے باوجود ایران کا شمار انتہائی خطرناک ممالک میں ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ گروپ تہران کی جانب سے ریاستی سطح پر کالے دھن کو سفید کرنے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی کارروائیوں کو مانیٹر کررہا ہے۔

گروپ نے عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں، کمپنیوں اورشخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ لین دین میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور کسی قسم کی تجارتی سرگرمی میں ایران کو شامل کرنے سے قبل تہران کی خلاف قانون کارروائیوں کی جانچ پڑتال کریں۔

خیال رہے کہ عالمی انسداد منی لانڈرنگ گروپ میں کی خلاف قانون کارروائیوں کی جانچ پڑتال کریں۔

خیال رہے کہ عالمی انسداد منی لانڈرنگ گروپ میں 37 ممالک شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں