ایران کے علاقائی اور عالمی جرائم کی ایک جھلک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ایرانی رجیم کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا حامی اور پشت پناہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایرانی رجیم دنیا بھر میں بالخصوص خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث رہی ہے۔ خطے کی اقوام اور یہاں کے باشندے ایرانی دہشت گردی کا برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔

بیرون ملک دہشت گردی کے فروغ کے لیے ایران نے کئی ایسے گروپ پال رکھے ہیں جو تہران سرکار کے اشاروں پر دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ،سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں "حزب اللہ الحجاز"، عصائب اھل الحق، عراق میں درجنوں فرقہ پرست ملیشیاؤں کا قیام، یمن میں حوثی گروپ ایران کے پروردہ تنظیمیں ہیں جو تہران کے اشاروں پر ان ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بھی نہ صرف تعاون کیا بلکہ القاعدہ رہ نماؤں اور جنگجوؤں کو اپنے ہاں پناہ دی اورانہیں ایرانی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔

ایرانی رجیم اور ولایت فقیہ کی سازشیں بیرون ملک اپنی حامی تنظیموں کے قیام اور جاسوسی سیلز قائم کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ خطے اور دنیا بھر میں اغواء، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ،سفارت خانوں پر حملوں، سفارت کاروں کے قتل اور مخالف سیاسی جماعتوں کے مراکز میں دہشت گردی سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران کے خطےاور دنیا بھر میں جرائم سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور ان اہم واقعات کا احاطہ کیا ہے جو سنہ 1979ء کے بعد ایران کی نگرانی میں واقع پذیر ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

بیروت میں عراقی سفارت خانے میں سنہ 1981ء میں بم دھماکے میں ایران کو ملوث قرار دیا گیا۔ ان دھماکوں میں 61 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوگئے تھے

سنہ 1983ء میں بیروت میں امریکی سفارت خانے میں بم دھماکے کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری ایران کی پروردہ حزب اللہ پرعاید کی گئی۔

اسی سال ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق اہلکار اسماعیل عسکری نے بیروت میں امریکی نیوی کے اڈے پر خود کش دھماکہ کیا جس میں 241 افراد مارے گئے جب کہ 100 افراد جن میں بیشتر امریکی نیوی کے اہلکار تھے، زخمی ہوئے۔

سنہ 1983ء ہی میں بیروت میں حزب اللہ کی جانب سے فرانسیسی فوج کے ایک مرکز میں دھماکے کیے گئے جن میں 64 فوجی اور سول فرانسیسی ہلاک ہوئے۔

سنہ 1983ء میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور حزب الدعوۃ نامی گروپوں نے کویت میں امریکا اور فرانس کےسفارت خانوں، تیل ریفائنری اور رہائشی کالونی میں دھماکے کیے جن کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔

سنہ 1985ء میں سابق امیر کویت الشیخ جابر الاحمد الصباح کے قافلے کو دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں قافلے میں شامل متعدد سیکیورٹی اہلکار اور خلیجی شہری مارے گئے۔

سنہ 1986ء کو ایران نے اپنےحاجیوں کو حج کے موقع پر پرتشدد کارروائیوں پر اکسایا۔ یوں ایک سازش کے تحت بھگدڑ مچائی گئی جس کے نتیجے میں 300 حجاج کرام شہید ہوئے۔

سنہ 1994ء کو بیونس آئرس میں ہونے والے بم دھماکو کی ذمہ داری ایران پرعاید کی گئی۔ ان دھماکوں میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے۔ سنہ 2003ء میں برطانوی پولیس نے سابق ایرانی سفیر ھادی بور کو ان حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں ارجنٹائن سے گرفتار کیا۔

سنہ 1996ء میں سعودی عرب کے الخبر ہر میں ’حزب اللہ الحجاز‘ نامی ایران نواز گروپ نے بم دھماکے کرکے 120 افراد کو قتل کیا۔ ان میں 19 امریکی شہری بھی شامل تھے۔ بم دھماکوں کے ایک سعودی مجرم احمد المغسل کو ایران میں پناہ دی گئی۔ سنہ 2015ء کو اسے ایرانی پاسپورٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ انہی دنوں میں بحرین میں ایران کے ملٹری اتاشی کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی نگرانی میں ماخوذ کیا گیا۔ ان پر سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی کرنی، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد مہیا کرنے کے الزمات عاید کیے گئے۔

سنہ 2003ء میں ایران میں بیٹھے ایک القاعدہ جنگجو نے سعودی عرب کے ریاض شہر میں دھماکے کرائے جن کے نتیجے میں متعدد امریکیوں اور دوسرے غیرملکیوں سمیت کئی شہری جاں بحق ہوئے۔

سنہ 2003ء میں بحرین میں ایرانی دہشت گردی کی ایک خطرناک سازش ناکام بنائی گئی۔ اس کارروائی کے لیے پاسداران انقلاب نے اپنے ایجنٹ بحرین بھیجے تھے جنہیں پکڑ لیا گیا تھا۔ سنہ2011ء اور 2016ء کے عرصے میں پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کی جانب سے خلیجی ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔

سنہ 2013ء کو متحدہ عرب امارات نے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے تشکیل کردہ ایک خفیہ سیل کا پتا چلایا۔ یہ سیل امارات میں اہم حکومتی، فوجی اور اقتصادی تنصیبات کی معلومات جمع کرنے کے بعد وہاں دھماکوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اس گروپ کو براہ راست ایرانی خفیہ اداروں کی معاونت حاصل تھی۔

سنہ 2016ء کو کویت کی ایک فوج داری عدالت نے العبدلی سیل کیس میں دو افراد کو سزائے موت سنائی۔ ان میں ایک ملزم کا تعلق ایران سے تھا۔ ملزمان پر کویت کی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنے اور حزب اللہ و ایران کی مدد سے خلیجی ریاست میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب تھا۔

ایران کو IED نامی دھماکہ خیز مواد پوری دنیا میں پھیلانے کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مواد عام گاڑیوں حتیٰ کہ بکتر بند گاڑیوں کو بھی تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سنہ 2003ء سے 2011ء کے عرصے میں اس نوعیت کے دھماکہ خیز مواد کے نتیجے میں ایران سیکڑوں افراد کی جانیں لے چکا ہے۔

ایران نے سنہ 1982ء میں حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی معاونت سے 25 امریکیوں سمیت 96 غیرملکیوں کو اغواء کیا۔ اغواء کا یہ کیس 10 سال تک جاری رہا۔

سنہ 1988ء میں ایران کے حکم پرحزب اللہ اور حزب الدعوۃ نامی گروپوں کے جنگجوؤں نے کویتی فضائی کمپنی کے الجابریہ کا ایک ہوائی جہاز اغواء کیا۔ کسی ہوائی جہاز کی اغواء کی یہ سب سے طویل کارروائی قرار دی جاتی ہے۔ ہوائی جہاز کوتھائی لینڈ کے بنکاک شہر ہوائی اڈے پر عمان سے کویت آتے ہوئے اغواء کیا گیا۔ اغواء کار طیارے کو ایران کے مشہد ہوائی اڈے پر لے گئے۔ اغواء کاروں نے کویت سے مطالبہ کیا کہ وہ بم دھماکوں اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے ان کے ساتھی رہا کرے۔

ایران بیرون ملک سفارت کاروں کے قتل کی کارروائیوں میں بھی بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔ سنہ 1989ء سے 1990ء کے دوران ایران تھائی لینڈ میں چار سفارت کاروں عبداللہ المالکی، عبداللہ البصری، فہد الباھلی اور احمد السیف کو قتل کرنے میں ملوث رہا۔

سنہ 2011ء کو امریکا نے سعودی عرب کے سفیر کے قتل کی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق اہلکار غلام شکوری اور منصور اربابسیار کو حراست میں لیا۔ اربابسیار کو سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی کے جرم میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جب کہ اسی کیس میں غلام شکوری کو اشتہاری قرار دیا گیا۔ شکوری اس وقت ایران میں ہے۔

سنہ 2012ء میں آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو میں امریکی سفارت کاروں کے قتل کی ایک سازش کا انکشاف کیا گیا۔ اس سازش میں ایران کی حمایت یافتہ ایک مقامی شیعہ تنظیم کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے لائے گئے۔ باکو میں سرگرم اس گروپ کو ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے براہ راست ہدایات مل رہی تھیں۔

سفارت کاروں پر قاتلانہ حملوں کے ساتھ ایران کی جانب سے دوسرے ملکوں کے سفارت خانوں پر حملوں میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ سنہ 1979ء میں ایران میں انقلاب کے بعد تہران میں قائم امریکی سفارت خانے کا 444 دن تک مسلسل محاصرہ کیا گیا۔ اس کے بعد سنہ 1987ء میں تہران میں قائم سعودی اور کویتی سفارت خانوں ، سنہ 1988ء میں روسی سفارت خانے پر حملے کیے گئے۔ سنہ 2007ء میں کویت اور سنہ 2007ء میں پاکستانی سفارت خانے پرحملے ہوئے۔ سنہ 2011ء میں برطانوی سفارت خانے کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جب کہ سنہ 2016ء کے آغاز میں تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حملہ کرکے وہاں آگ لگائی گئی۔

ایرانی رجیم نے اپوزیشن قوتوں کو کچلنے کے لیے بیرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں کے ارتکاب سے بھی گریز نہیں کیا۔ سنہ 1989ء میں ایران نے ویانا میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالرحمان قاسملو اور ان کے معاون عبداللہ آذر کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کیا۔

سنہ 1991ء کو پیرس میں ایرانی اپوزیشن رہ نما شاپور بختیارپر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں بختیار، ایک فرانسیسی پولیس اہلکار اور ایک خاتون بھی ہلاک ہوگئیں۔

سنہ 1992ء میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکرٹری جنرل صادق شرفنکدی کو ان کے تین معاونین فتاح عبدلی، ھمایوں اردلان اور نوری دھکریدی کو برلن میں قاتلانہ حملہ کرکے ہلاک کیا گیا۔ اس کارروائی میں جرمنی کی عدالت نے ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

ایران کی سیاہ تاریخ میں اپوزیشن رہ نماؤں اور کارکنوں کے اجتماعی قتل عام کے بھی بھیانک واقعات موجود ہیں۔ موجودہ ایرانی رجیم کے قیام کے بعد اب تک 1 لاکھ 20 ایرانی اپوزیشن کارکنوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ سنہ 1988ء کو اپوزیشن جماعت مجاھدین خلق کے 30 ہزار کارکنوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کےعلاوہ صوبہ الاھواز کے عرب، کرد اور بلوچستان کے سیکڑوں شہریوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں