.

ٹیکنالوجی نے حج کے انداز و اطوار بدل ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹیکنالوجی کا انقلاب جہاں دُنیا بھرمیں انسان کے معمولات زندگی میں غیرمعمولی تبدیلیاں لانے کا موجب بنا ہے وہیں ڈیجیٹیل انقلاب، ٹیکنالوجی اور اسمارٹ مصنوعات نے حج اور حجاج کے طور اطوار بھی بدل ڈالے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈیڑھ ہزار سال سے مسلمان جن روایات کے مطابق فریضہ حج ادا کرتے رہے ہیں آج وہ روایات تبدیل ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیل مثبت سمت میں جاری ہے جس نے عازمین حج کے لیے بے پناہ سہولیات پیدا کی ہیں۔

رواں سال پہلی بار سعودی وزارت حج کی جانب سے الیکٹرانک بریسلٹ کا اجراء کیا گیا۔ بریسلٹ کی مدد سے کسی بھی حاجی کی شناخت، اس کے متعلق ضروری ڈیٹا کو محفوظ کرنے، پاسپورٹ اور ویزہ سے متعلق معلومات جمع کرنے میں مدد ملے گی۔ اس اسمارٹ سہولت کے باعث اس بات کا پتا چلایا جاسکے گا کہ کون سا حاجی مکہ مکرمہ میں کس مقام پر موجود ہے۔ اس اسمارٹ ایلیکیشن میں موجود GPS سسٹم کی سہولیات نے حجاج کرام عربی نہ بولنے کے باوجود وہ اپنی مشکل کے بارے میں حکام کو بروقت مطلع کرسکتے ہیں۔ اس کےعلاوہ آئی پیڈ اور اسمارٹ فونز کے توسط سے بھی حجاج ومعتمرین کو ہمہ نوع جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ فریضہ حج و عمرہ کی ادائی کے دوران انہیں کسی قسم کی دقت اور مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق دیگر ان گنت جدید سہولیات میں ایک ’میرا فرض‘ نامی ایپلی کیشن بھی شامل ہے۔ یہ ایپلی کیشن ایک سعودی نوجوان طارق الزبیر نے تیار کی ہے جس میں حج کے بارے میں قدم بہ قدم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس اسمارٹ ایپلی کیشن میں شعبہ حادثات کے ایمرجنسی فون نمبر، مکہ مکرمہ کا نقشہ اور دیگر ضروری معلومات شامل ہیں۔ اس ایپلی کیشن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ وہاں بھی کام کرتی ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نا ہو۔

اگرچہ کیمروں سے لیس فون سیٹوں کی مدد سے لوگوں میں سیلفی کا رحجان بھی اپنی جگہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے مگر علماء نے مسجد حرام اور بیت اللہ میں سیلفی کی سختی سے ممانعت کردی ہے۔ سعودی عرب کے نوجوان انسٹا گرام، اسنیپ چیٹ اور دیگر اسمارٹ اپیلی کیشن اور سوشل میڈیا لنکس کے ذریعے حج وعمرہ کے بارے میں اہم معلومات شیئر کررہے ہیں۔