.

سعودی عرب کا ایران کی مداخلت روکنے کے لیے سخت اقدام کا مطالبہ

یمن سے متعلق کوئی بھی سمجھوتا خلیجی اقدام پر مبنی ہونا چاہیے: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ یمن کے بارے میں کوئی بھی سمجھوتا خلیجی اقدام اور اقوام متحدہ کے فیصلے پر مبنی ہونا چاہیے۔ انھوں نے دنیا سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی خطے میں مداخلت کو روکنے کے لیے سخت اقدام کیا جائے۔

وہ اتوار کے روز دارالحکومت الریاض میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پر جان کیری نے کہا کہ داعش شکست سے دوچار ہونے والے ہیں۔انھوں نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں اتوار کے روز داعش کے خودکش بم حملے کی مذمت کی ہے۔اس میں انچاس یمنی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کو یمن میں جنگ کا اس انداز میں خاتمہ کرنا چاہیے کہ اس سے سعودی عرب کی سکیورٹی کا تحفظ ہو۔انھوں نے یمن کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر جلد لوٹ آئیں۔

جان کیری نے بھی واضح کیا کہ سعودی عرب کی طرح ان کا ملک ایران کی یمن میں مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔بطور امریکی وزیر خارجہ ان کا سعودی عرب کا یہ آخری دورہ ہے اور انھوں نے وزیر خارجہ عادل الجبیر سے بات چیت سے قبل شاہ سلمان بن عبدالعزیز ،ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف سے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''مشکل حالات میں یہ ضروری ہے کہ آپ کے اچھے دوست ہوں۔اسی لیے امریکا کی سعودی عرب سے شراکت داری بڑی اہمیت کی حامل ہے''۔

امریکی وزیر خارجہ نے سعودی دارالحکومت میں برطانیہ کے وزیر برائے مشرق وسطیٰ امور ٹوبیاس ایل ووڈ، اومانی وزیر خارجہ یوسف بن علاوی اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد احمد سے بھی ملاقات کی اور ان سے یمن کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ٹوبیاس ایل ووڈ نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ اجلاس میں یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل پر بات چیت کی گئی ہے۔ان کے بہ قول سیاسی عمل کے ذریعے ہی یمن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

جان کیری نے اجلاس کے بعد اس توقع کا اظہار کیا کہ یمنی فریق اقوام متحدہ کی پیش کردہ شرائط سے آیندہ دوہفتے میں متفق ہوجائیں گے۔تاہم انھوں یا ان کے سعودی ہم منصب نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی کی پیش کردہ تجویز پر کیونکر عمل درآمد ہوگا کیونکہ اس میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے اور حوثی باغیوں کو رعایتیں اور مجوزہ حکومت میں بھی زیادہ حصہ دیا گیا ہے لیکن سعودی عرب نے بھی یمنی حکومت کی طرح ا س نقشہ راہ کو مسترد کر دیا ہے۔