.

میانمار فوج کے نہتے روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم: ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برما میں بسنے والے مسلمانوں پر وہاں کی ظالم حکومت اور فوج کے وحشیانہ مظالم کی خبریں آئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہتی ہیں۔ ایسے ہی رونگٹے کھڑے کرنے والے مظالم کی ایک فوٹیج حال ہی میں سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آئی ہے جس میں میانمار کی فوج کو نہتے روہنگیا مسلمانوں پر ہولناک تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی یہ ویڈیو اراکان کے خبر رساں ادارے کے نشر کی ہے۔ یہ فوٹیج کسی فوجی اہلکار نے اپنے موبائل کیمرے ذریعے بنائی ہے جس میں پکڑے گئے روہنگیا مسلمانوں پر فوجیوں کو انسانیت سوز تشدد اور اذیتیں دیتے دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج میں میانمار کے فوجی اہلکار مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کر رہے ہیں۔ انھیں انتہائی شرمناک طریقے سے ڈنڈوں اور لاتوں سے مارا پیٹا جا رہا ہے اور ننگی گالیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

اراکان نیوز ایجنسی نے، جس کا صدر دفتر مکہ مکرمہ میں ہے، اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ میانمار کی فوج نہتے روہنگیا مسلمانوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے۔ اگرچہ اراکان صوبہ کی حکومت فوج اور پولیس کے ہاتھوں مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کی تردید کرتی ہے مگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار میانمار کی فوج پر مسلمانوں پر بدترین مظالم، ان کے اجتماعی قتل عام، پکڑ دھکڑ اور تشدد کے الزامات عاید کرتی چلی آ رہی ہیں۔

میانمار( پرانا نام برما ) کے مغربی صوبہ اراکان میں روہنگیا مسلمان اقلیت میں آباد ہے۔ میانمار میں مسلمان باشندوں کی آبادی 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ یہ تسلیم کر چکی ہے کہ منظم ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنے میں روہنگیا مسلمان پہلے نمبر پر ہیں۔ وہاں کی حکومت نے سنہ 1982ء میں صوبے کی مسلمان آبادی کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کرکے انہیں ملک بدر کرنے کی مذموم سازش تیار کی تھی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق میانمار کی حکومت کے دعوؤں کے علی الرغم روہنگیا میں مسلمانوں پر ریاستی جبر وتشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور میانمار کی فوج انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ایک منٹ پندرہ سیکنڈ دورانیے کی فوٹیج میں میانمار کے مسلح فوجیوں نے کئی مسلمانوں کو پکڑ رکھا ہے۔ انھیں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور ہاتھ پشت پر باندھیں۔ اس کے بعد فوجی اہلکار ایک نوجوان کو گھسیٹ کر لاتوں اور لاٹھیوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے اور اسے گالیاں دیتے ہیں۔

اراکان نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر صلاح عبدالشکور نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر فوج کے وحشیانہ تشدد کا یہ واقعہ شمال مغربی صوبے کے منگدو شہر میں پیش آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں کو نہ صرف اذیت ناک طریقے سے مارا پیٹا جاتا ہے بلکہ خواتین کی سرعام عزتیں پامال کی جاتی ہیں۔ یہ تمام مجرمانہ حربے مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے شکایت کی کہ "روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پرنہ صرف عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے معمولی کوریج بھی نہیں کرتے۔ ذرائع ابلاغ کی عدم توجہ اور بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ غفلت میانمار کی فوج کو مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کا مواقع فراہم کر رہی ہے۔"