.

آسٹریا: حجاب پر پابندی کے قانون میں فلسطینی نژاد خاتون پیش پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملک آسٹریا کے وزیر خارجہ سپاسٹین کورٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے حجاب پر پابندی کا قانون نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ پابندی کے قانون کا اطلاق اسکول کی معلمات پر بھی ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آسٹرین وزیرخارجہ اسپٹین کورٹز کا تعلق ملک کی قدامت پسند عیسائی سیاسی جماعت ’پیپلز پارٹی‘ سے ہے اور وہ ایک فلسطینی نژاد خاتون وزیر مملکت منیٰ دزدار کے ساتھ مل کر ملک میں حجاب پر پابندی کے لیے قانون سازی کررہے ہیں۔ منیٰ دزدار سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن اور حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔ ایک مسلمان اور فلسطینی نژاد خاتون کا حجاب پر پابندی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا افسوس ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

حجاب پر پابندی سے متعلق قانون کی منظوری کی شکل میں آسٹریا، فرانس اور جرمنی سے بھی زیادہ اس نوعیت کے قوانین پر چلنے والا ملک بن جائے گا۔

آسٹرین وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ وہ حجاب پر پابندی کے قانون کو اسکولوں پر بھی لاگو کریں گے تاکہ اسکولوں کی مسلمان طالبات بھی اس قانون کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریا مذہب کے معاملے میں ہم آہنگی کے اصول پر قائم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک سیکولر ملک بھی ہے۔

آسٹرین وزیرخارجہ نے جہاں ایک طرف مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی کے قانون کے نفاذ کی مہم شروع کی ہے، وہیں دوسری طرف کیتھولک عیسائی عورتوں کو صلیب کی علامت گلے میں ڈالنے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول میں کلاسوں کے دوران بھی صلیب کی علامت نمایاں کی جاسکتی ہے۔ بہ قول ان کے صلیب کی علامت گلے میں ڈالنا ملک کی قومی تہذیب وتاریخ کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔

ادھر آسٹریا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم اسلامک سوسائٹی کے ترجمان نے حجاب پر پابندی کے قانون پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کا نفاذ آسٹریا کے دستور کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریا میں کام کی جگہوں پر مذہبی بنیادوں پر الگ الگ قوانین کا اطلاق شہریوں میں امتیاز برتنے کی کوشش ہے اور ایسا کرنا ریاستی دستور کی خلاف ورزی ہے۔