.

ڈونلڈ ٹرمپ کا عراقی وزیراعظم سے ملاقات سے انکار

‘عراق کو ایران کی گود سے نکلنا ہوگا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی نئی انتظامیہ بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عراقی حکومت کے درمیان بھی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں تازہ کشیدگی حال ہی میں اس وقت پیدا ہوئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی تھی۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا قدم آگے بڑھاتے ہوئے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا ہے۔

عراق میں متعین امریکی سفیر دوگلاس سیلیمان نے وزیراعظم العبادی کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے ملنے کے خواہاں نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ العبادی ڈونلڈ ٹرمپ کو منصب صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے کے لیے امریکا جانا چاہتے تھے مگر صدر ٹرمپ نے اپنے سفیر کے ذریعے انہیں مطلع کر دیا ہے کہ وہ ان کا استقبال نہیں کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے حیدر العبادی سے ملاقات سے انکارکے باوجود امریکی انتظامیہ داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی حمایت اور مدد جاری رکھے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا سبب ایران کی عراق میں بے جا مداخلت ہے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ امریکا نے عراق پر تین کھرب ڈالر خرچ کرڈالے ہیں مگر عراقی حکومت ایرانی اثرو نفوذ سے باہر نہیں آسکی۔ حال ہی میں جب امریکی صدر نے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی تو اس میں عراق کا نام بھی شام رکھا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے بڑھتے دباؤ کے بعد عراق کو بعض اقدامات اور ایران سے مراسم سے پیچھے ہٹنا ہوگا ورنہ بغداد حکومت کو داعش کے خلاف جنگ میں امریکی امداد بھی بند ہوسکتی ہے۔