جرمنی میں ایرانی سفارت خانہ جاسوسی کا اڈا بن چکا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جرمنی کے داخلی سلامتی کے ذمہ دار انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں الزم عاید کیا گیا ہے کہ برلن میں قائم ایرانی سفارت خانہ اپوزیشن شخصیات اور حکومت مخالف جماعتوں کے خلاف جاسوسی کا اڈہ بن چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن انٹٰیلی جنس کا کہنا ہے کہ برلن میں قائم ایرانی سفارت خانہ ایرانی انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم ونگ فیلق القدس کی مدد سے ایرانی اپوزیشن کی حامی شخصیات کی جاسوسی کررہا ہے۔

جرمن انٹیلی جنس کے ’تحفظ دستور دفتر‘ سے یہ رپورٹ چار جولائی کو جاری کی گئی ہے جس میں ایرانی سفارت خانے کی مشکوک سرگرمیوں اور جرمنی میں موجود ایرانی اپوزیشن کی نمائند شخصیات کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا اور ان کی جاسوسی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت برائے انٹیلی جنس ’واجا‘ کی طرف سے خاص طور قومی مزاحمتی کونسل ’مجاھدین خلق‘ کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ برلن میں قائم سفارت خانے میں ایران نے اپنے مبینہ جاسوس بٹھا رکھے ہیں جو مجاھدین خلق سمیت دیگر اپوزیشن تنظیموں اور شخصیات کا تعاقب کرتے ہیں اور ان کی نقل وحرکت کے بارے میں تہران کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔

جرمن انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی سراغ رساں ادارے جرمنی میں مقیم ایرانی شہریوں کو اس وقت جاسوسی کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ ایران کا دورہ کرتے ہیں۔ ایرانی خفیہ ادارے ایران میں اپنے خاندانوں سے ملاقات کے لیے آنے والے شہریوں یا پیشہ وارانہ مقاصد کے لیے ایران کا سفر کرنے والوں کوجاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جاسوسی میں ایرانی حکام کی مدد کرنے والے خود کو نسبتا ایرانی اداروں کی شر سے محفوظ خیال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس وزارت کی طرف سے جرمنی میں مقیم ایرانیوں کے ایران سفر کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایرانی حکام ان سے سے رابطے میں رہتے ہیں اور ان سے جاسوسی کی کارروائیوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم عسکری گروپ ’فیلق القدس‘ بھی جرمنی میں جاسوسی کے مقاصد کے لیےسرگرم عمل ہے۔ یہ تنظیم جرمنی میں اسرائیلی اور یہودی اہداف کی نشاندہی، یہودیوں اور صہیونیوں کی سرگرمیوں پر ںظر رکھنے کے ساتھ ساتھ جرمنی میں مقیم اپوزیشن شخصیات اور تنظیموں پر بھی نظررکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں ایرانی حکومت کے خبر رساں اداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2016ء کو حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے پاسداران انقلاب کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ایران جلد ہی یورپ اور امریکا میں بھی اپنا جاسوس نیٹ ورک قائم کرے گا۔

انیس جولائی 2016ء کو برلن کی ایک عدالت نے ایک 32 سالہ ایرانی جاسوسی کی سرگرمیوں کے الزام میں دو سال چار ماہ قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔

برلن میں سزا پانے والے مبینہ ایرانی جاسوس پر ایرانی مزاحمتی کونسل مجاھدین خلق کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے سے سمیت دیگر الزامات عاید کیے گئے تھے۔

رواں سال 27 مارچ کو برلن کی ایک عدالت نے ایک 31 سالہ پاکستانی کو ایرانی انٹٰلی جنس ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کے الزام میں چار سال تین ماہ قید کی سزا کا حکم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں