.

سعودی اسکولوں میں طالبات کے لیے جسمانی تعلیم متعارف کرانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے سرکاری اسکولوں میں آیندہ تعلیمی سال سے جسمانی تعلیم کا مضمون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کے لیے جسمانی تعلیم متنازع رہی ہے اور قدامت پرست حلقے اس کو بچیوں کے لیے مناسب اور شائستہ نہیں سمجھتے۔یہ لازمی مضمون نہیں ہے اور بیشتر سرکاری اسکولوں میں اس کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔البتہ بعض پرائیویٹ اسکولوں نے اس کواپنے نصاب میں شامل کررکھا ہے۔

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے سنہ 2014ء میں لڑکیوں کے لیے جسمانی تعلیم کا مضمون متعارف کرانے کی منظوری دی تھی لیکن قدامت پرست علماء کی مخالفت کی وجہ سے اس فیصلے پر اب تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی تھی اور انھوں نے اس طرح کے اقدامات کو سعودی معاشرے کو ’’ مغربیانے‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں اسلامی شریعت اور قبائلی روایات کی سختی سے پیروی کی جاتی ہے اور خواتین اپنے مرد ولیوں اور سرپرستوں کے بغیر گھر سے باہر نہیں جاسکتی ہیں۔وہ شائستہ لباس پہننے کی پابند ہیں اور انھیں ڈرائیونگ کی بھی اجازت نہیں ہے۔

تاہم سعودی حکومت نے حالیہ برسوں کے دوران میں خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بتدریج اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ان کے تحت خواتین کے لیے ترقی اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور انھیں افرادی قوت میں بھی شامل کیا جارہا ہے۔

شوریٰ کونسل نے اسی سال کے اوائل میں خواتین کے لیے جمنازیم کھولنے کی بھی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں موٹاپے کا شکار افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کے صحت کے نظام پر ایسے افراد کے علاج معالجے کے ضمن دباؤ پڑتا ہے۔ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف کھیل اور تفریحی سرگرمیاں متعارف کرائی جارہی ہیں۔